Al-Risala · April 2020 · page 33

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۳

انسانی زندگی کی گاڑی سفر کرے گی۔

تیسری چیز یہ کہ ہم جو اس دنیا میں پیدا ہوئے ہیں، تو ہمارے پیدا ہونے کا مقصد کیا ہے۔ وہ کون سی منزل ہے، جدھر ہم کو جانا چاہیے۔ کون سا کام کرنے میں ہمارے لیے بہتری ہے، اور کون سے کام ہیں جن کو کرنے کی صورت میں ہمیں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی سے متعلق یہ سوال بھی ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ اگر یہ زندگی مر کر ختم ہو جاتی ہے تب تو ہمیں اس کے بارے میں کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن موت کے اُس پار بھی اگر کوئی دنیا ہے، اور اس کے بعد بھی اگر زندگی کا سلسلہ باقی رہتا ہے، تو ہم کو آج ہی سے اس کے لیے بھی سوچنا ہوگا۔ کیوں کہ پھر یہ ہماری موجودہ زندگی، موت کے بعد آنے والی زندگی سے الگ نہیں ہوسکتی۔ ہماری آج کی کارگزاریوں کا اثر لازماً کل کے حالات پر پڑے گا۔ اس سوال کے صحیح جواب کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے وہ منزل پالی ہے، جہاں پہنچ کر ہم کو اپنی زندگی کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ اگر ہم نے صحیح مقصد طے کیے بغیر اپنا سفر شروع کر دیا، تو اس کی مثال ایسی ہوگی کہ ایک شخص کلکتہ جانے کے ارادے سے ریلوے اسٹیشن میں داخل ہو، اور سامنے پلیٹ فارم پر ایک گاڑی کھڑی دیکھ کر اس میں بیٹھ جائے، اور یہ معلوم نہ کرے کہ یہ گاڑی کہاں جا رہی ہے۔ وہ اسی طرح انجان حالت میں سفر کرتا رہے، یہاں تک کہ ٹرین جب اپنے آخری اسٹیشن پر پہنچے تو معلوم ہو کہ یہ امرتسر ہے، جو کلکتہ سے بالکل مخالف سمت میں ساڑھے گیارہ سومیل دور واقع ہے۔ ہم جس آئیڈیالوجی کی دعوت لے کر اٹھے ہیں، وہ اسلام ہے۔ دنیا کے مختلف آئیڈیالوجی کے مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس آسمان کے نیچے یہی ایک آئیڈیا لوجی ہے، جو زندگی کی گاڑی کو صحیح طور پر چلا سکتا ہے۔ اور اس کو وہاں پہنچا سکتا ہے جہاں یقیناً اسے پہنچنا ہے۔ اب میں بتاؤں گا کہ مندرجہ بالا تینوں بنیادی سوالات کا جواب اسلام کس طرح دیتا ہے، اور دوسرے جوابات جو اس سلسلے میں دیے گئے ہیں، ان میں کیا خرابیاں ہیں۔

پہلے سوال کا صحیح جواب پانے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کائنات کا کوئی خدا ہے۔ اگر کوئی ہے، جس نے کائنات کو بنایا ہے، اور جو اس پورے کارخانے کو چلا رہا ہے، تو لازمًا اسی کو ہمارا بھی خدا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page