Al-Risala · April 2020 · page 32

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۲

سفر کرتی ہیں، اور ان میں کوئی جنگ برپا نہیں ہوتی۔ فضا کی چڑیاں ایک موسم ایشیا میں گزارتی ہیں، اور دوسرے موسم میں وہ یورپ چلی جاتی ہیں۔ مگر ایک ملک کا آدمی دوسرے ملک کے لیے اجنبی کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایک قوم دوسری قوم کو ہڑپ کر لینا چاہتی ہے۔

دراصل یہی وہ سب سے بڑی کمی ہے، جو آج ساری دنیا کو لاحق ہے۔ مشرق ہو یا مغرب، روس ہو یا امریکا سب کے سب اسی ایک چیز کے محتاج ہیں۔ دنیا کا مستقبل اب اسی ایک سوال پر منحصر ہے۔ اگر اس نے کوئی صحیح آئیڈیالوجی پالیا ہو، تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے اور اگر یہ صحیح آئیڈیالوجی نہ ملا، تو پھر کوئی چیز دنیا کو ایک ہولناک تباہی کے انجام سے نہیں بچا سکتی۔ دنیا میں زندگی گزارنے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی کس طرح دنیا میں رہے، اس کی کوششوں کا رخ کیا ہو، اور وہ کون سی شخصیت ہو، جو مختلف انسانوں کے درمیان فیصلہ کرنے اور انھیں باہم جوڑے رکھنے کا کام کرے۔ مثلاً ریل گاڑی کو (1) ایک ڈرائیور کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس کو کنٹرول کرے۔ (2) ایک پٹری کی ضرورت ہوتی ہے، جس پر وہ بھٹکے بغیر سفر کر سکے۔ (3) اور ایک طے شدہ منزل کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی طرف وہ دوڑے۔ بس ان ہی تین چیزوں کا نام زندگی ہے۔ جس طرح ایک مشین کو اپنا کام صحیح طور پر انجام دینے کے لیے یہ تینوں چیزیں ضروری ہیں۔ اسی طرح انسان بھی اپنے مقصد وجود کو پورا نہیں کر سکتا، جب تک یہ چیزیں اسے حاصل نہ ہوں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ وہ کون سی شخصیت ہو، جو انسانوں کی اس وسیع آبادی کا انتظام کرے، اور جس کی سب لوگ اختیارانہ طور پر اطاعت کریں، جس کے آگے انسان اپنے آپ کو سرینڈر کرے۔ یہی شخصیت وہ کنٹرولر (controller) ہوگی، جو ہمارے انجن کو قابو میں رکھ کر چلائے گی۔ دوسری چیز یہ ہے کہ وہ کون سا نظریہ ہو، جس کو سب لوگ تسلیم کریں، جس کے مطابق ایک شخص اور دوسرے شخص اور ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان فیصلہ کیا جائے، جو انسانی سرگرمیوں کے صحیح حدود (limitations) متعین کرے، اور زندگی کے مختلف مراحل میں ایک رویّے کوچھوڑ نے اور دوسرے رویّے کو اختیار کرنے کی ہدایات دے، یہ گویا وہ پٹری ہوگی جس پر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page