Al-Risala · April 2020 · page 35

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۵

سے اس قدر قریب ہونا سخت حیرت انگیز ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکا اور آسٹریلیا سب برفستان (ice-cap) ہوتے، اور روئے زمین پر کوئی جان دار دکھائی نہ دیتا۔ پھر یہ کیا محض اتفاق ہے، اور اس میں کسی کا سوچا سمجھا ہوا ارادہ شامل نہیں ہے۔

امریکا کے بعض بحری افسروں نے جو سمندر کی پیمائش کر رہے تھے، ایک تجربہ کیا۔ انھوں نے موٹے شیشے کی کئی ہوا بند کھوکھلی گیندوں (vacuum balls) کو سمندر میں ڈالا۔ نکالنے پر معلوم ہوا کہ وہ پانی سے بھر گئی ہیں۔ خوردبین (microscope) سے دیکھا گیا تو شیشے کی سطح کے ٹوٹنے یا سوراخ ہونے کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پانی کے نیچے 15 ہزار فٹ کی گہرائی میں ایک مربع انچ پر اتنا دباؤ ہے کہ وہ ایک گھنٹہ سے کم وقفے میں پانی کو شیشے کی موٹی دیواروں سے گزار دیتا ہے۔ اب غور کیجیے کہ جب 15 ہزار فٹ کی گہرائی پر پانی کا دباؤ اس قدر ہے، تو ان مقامات پر کتنے زور کا دباؤ پڑتا ہو گا، جہاں سمندر 5 میل یا اس سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔ چنانچہ یہ سمندر جو زمین کے تین چوتھائی حصے میں پھیلے ہوئے ہیں، اپنی تہ کے نیچے مسلسل فواروں کی شکل میں زمین کے اندر پانی داخل کر رہے ہیں۔ زمین کا اندرونی حصہ جو میل کے بعد شروع ہوتا ہے، نہایت گرم ہے۔ جب یہ پانی زمین کے اندر پہنچتا ہے تو وہ اندرونی حرارت سے بھاپ بن کر خارج ہو جاتا ہے۔ اگر کسی دن اوپری حصے کی طرح ساری زمین سرد ہو جائے تو جس طرح روئی یا جذب کرنے والے کاغذ میں پانی جذب ہو جاتا ہے، اسی طرح پانی نہایت تیزی کے ساتھ زمین میں جذب ہونا شروع ہو جائے گا، اور چند سو سال کے اندر سطح زمین سے پانی اس طرح غائب ہو جائے گا، جس طرح وہ ریگستانوں سے غائب ہوا ہے۔ ایسی حالت میں ساری زمین غیر آباد اور ویران ہو کر رہ جائے گی، اور ہر جگہ چاند جیسی خاموشی طاری ہوگی۔ پھر یہ کیا محض اتفاق ہے کہ انسانوں کو آباد کرنے کے لیے زمین کا اوپری حصہ ٹھنڈا اور اندرونی حصہ نہایت گرم ہے، اور آسمان میں کبھی بالکل اچانک طور پر ایک نہایت چمک دار ستارہ دکھائی دیتا ہے، جس کو نیا تارہ (Nava) کا نام دیا گیا ہے۔ موجودہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ نئے ستارے نہیں ہوتے، بلکہ پرانے دھیمے ستارے یک بیک بھڑک اٹھتے ہیں، اور بڑھتے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page