Al-Risala · April 2020 · page 36

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۶

بڑھتے 25-20 ہزار آفتابوں کے برابر تیز روشنی سے چمکنے لگتے ہیں۔ اس طرح کا عمل مختلف ستاروں کے ساتھ ہوتا ہے، مگر یہ ستارے چوں کہ ہم سے بہت دور ہیں، اس لیے ہماری زندگی پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑتا، مگر سورج جو ہم سے قریب کا ستارہ ہے، اگر کسی دن تیز ہو کر بھڑک اٹھے تو اتنی شدید گرمی پیدا ہو کہ چند منٹ میں زمین سے ہر طرح کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

ماہر ارضیات لنکوئسٹ (Mr. Lencois) کا خیال ہے کہ ہر ستارہ 40 کروڑ سال میں ایک بار بھڑک اٹھتا ہے۔ سورج بھی ایک ستارہ ہے۔ جہاں تک ارضی تحقیقات کا تعلق ہے، کم از کم ایک ارب سال پہلے تک سورج کے بھڑکنے کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ پھر کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جو عمل دوسرے ستاروں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ سورج کے ساتھ نہیں ہوتا، اور اس میں کسی بالا تر قوت کا کوئی دخل نہیں ہے۔

زمین اور سورج دونوں اپنی اپنی کشش سے ایک دوسرے کو کھینچ رہے ہیں، اور وہ ایک خاص مقام پر آکر رک گئے ہیں۔ اگر کسی دن ایسا ہو کہ زمین کی قوت کشش (gravitational force) ختم ہو جائے تو وہ پوری انسانی آبادی کو لیے ہوئے اپنے تمام بڑے بڑے شہروں اور کارخانوں کے ساتھ صرف 65 دن میں کھینچ کر سورج کے اندر جا گرے گی، اور پھر دم بھر میں اس طرح جل کر راکھ ہو جائے گی، جیسے کسی بہت بڑے الاؤ کے اندر ایک تنکا ڈال دیا جائے۔ مگر یہ دنیا کروڑوں سال سے آباد ہے، اور پھر بھی یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے، اور اس کے پیچھے کوئی قدرت کام نہیں کر رہی ہے۔ رات کے وقت ٹوٹنے والے تارے آپ نے دیکھے ہوں گے۔ یہ در اصل سخت مادے کے ٹکڑے ہیں جو رائفل کی گولی سے سیکڑوں گنا زیادہ تیز رفتار ہونے کے ساتھ بے شمار تعداد میں ہر وقت فضا کے اندر دوڑتے رہتے ہیں، اور زمین کے گرد کرہ ہوا (atmosphere) سے مسلسل ٹکراتے ہیں۔ ہوا کا کرہ ایک غلاف کی شکل میں تمام دنیا کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی بلندی تقریباً 250 میل ہے۔ اس ہوا کی وجہ سے شہاب ثاقب (Meteor) ہماری زمین تک پہنچنے نہیں پاتے، بلکہ وہ کرہ ہوا کی بالائی سطح تک پہنچتے ہی ہوا کے ساتھ ٹکراتے ہیں، اور اسی رگڑ کی وجہ سے اتنی حرارت پیدا ہوتی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page