Al-Risala · April 2020 · page 43

جدید دور کی ایک دین

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۴۳

جدید دور کی ایک دین

قدیم زمانے سے یہ طریقہ چلا آرہا تھا کہ بیٹے کے ذریعے تسلسل کو قائم رکھنا۔ مثلاً سردار کا بیٹا سردار، بادشاہ کا بیٹا بادشاہ، خلیفہ کا بیٹا خلیفہ، اسی طرح عہدیدار کا بیٹا عہدیدار، وغیرہ۔ یہ طریقہ برابر قائم رہا۔ اس طرح نظام کا عملی ڈھانچہ تو قائم رہا، لیکن اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ غیر اہل (incompetent) افراد عہدوں پر قابض ہونے لگے۔ مغرب نے اس کے بدل کے طور پر ادارے(institution) کا طریقہ رائج کیا، اور ادارے میں یہ اصول رکھا کہ الیکشن کے ذریعے عہدیدار منتخب کیے جاتے رہیں۔ اس طریقے میں معیار کو باقی رکھنے کی تدبیر وہ اختیار کی گئی، جس کو کوالٹی ایجوکیشن ( quality education ) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایجوکیشن کے ذریعے بہتر افراد کا عہدے تک پہنچنا۔ غیر ترقی یافتہ ملکوں میں بھی اس طریقے کو اپنایا گیا ہے، لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ غیر ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ بھی بظاہر کوالٹی ایجوکیشن کا نام لیتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ وہ رعایت اور ریزرویشن کا طریقہ بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چنانچہ رعایت اور ریزرویشن کے طریقے نے ان ملکوں میں کوالٹی ایجوکیشن کا عملاً خاتمہ کر دیا ہے۔

کوالٹی ایجوکیشن کی کامیابی کی واحد شرط یہ ہے کہ پوری اصول پسندی کے تحت اسٹرکٹ کمپटीशन (strict competition) کا اصول اختیار کیا جائے۔ اسٹرکٹ کا کمپटीशन کا مطلب ہے۔ مقابلے کا سامنا کرو، یا ختم ہو جاؤ (compete or perish)۔ اس اصول کو سختی سے اختیار کیے بغیر کوالٹی ایجوکیشن کا کوئی وجود نہیں۔

اسٹرکٹ کا کمپटीशन کو سختی سے رائج کیا جائے، تو یہ ہوگا کہ صرف اہل لوگ منتخب ہو کر اوپر آئیں گے، اور جو نااہل افراد ہیں، وہ خود سسٹم کے تحت اپنے آپ چھٹ کر الگ ہو جائیں گے۔ مگر الگ ہونا، سادہ طور پر کنارے لگنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے ایسے افراد کے لیے دوسرے چانس کو اویل کرنے کا موقع دینا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page