نئے عہد کے دروازے پر
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۴۲
گرنے کے ڈر سے لاکھوں من پیدا وار کو جلا ڈالتے ہیں ، یا سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کے ملک میں اور ملک کے باہر بہت سے لوگ انھیں چیزوں کے لیے ترستے ہیں۔ کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے ، جہاں انھیں اپنے اس فعل کا جواب دینا ہو۔
اس وقت دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس کی ہم کوئی توجیہہ نہیں کر سکتے ، اگر ہم ایک ایسے دن کو تسلیم نہ کریں ، جب کہ ایک ایک شخص اور ایک ایک قوم کی کارگزاریوں کی جانچ ہوگی ، اور اس کے کارنامے کے مطابق ، اس کو اچھا یا برا بدلہ دیا جائے گا۔ اس طرح کے ایک دن کو مانے بغیر یہ دنیا محض بچوں کا کھیل نظر آتی ہے۔
اس طرح کا ایک دن ماننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ دنیا میں آدمی کو صحیح رویہ پر قائم رکھنے کے لیے اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے ، اور مرنے کے بعد کوئی حساب نہیں ہونے والا ہے ، تو پھر کیا ضرورت ہے کہ آدمی سچائی اور دیانت داری اختیار کرے ، کیوں نہ اپنے فائدے کے لیے وہ جھوٹ بولے ، کیوں نہ رشوت لے اور غبن کرے ، کیوں نہ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالے۔ اس نظریے کو نہ ماننے کے بعد پھر کوئی ایسا عامل (factor) باقی نہیں رہتا ، جو آدمی کو صحیح رویہ پر برقرار رکھنے کے لیے مجبور کر سکتا ہو ، پھر یہ انسانی آبادی ایک جنگل میں تبدیل ہو جاتی ہے ، جہاں ایک جانور دوسرے جانور کو کھا جانا چاہتا ہے ، اور کوئی فرد کسی اخلاقی اور انسانی ضابطے کا پابند نہیں ہے۔
☆☆☆☆☆☆
انسان جب پیدا ہوتا ہے ، تو اس کی سب سے پہلی دریافت ، شعوری طور پر تو نہیں ، مگر غیر شعوری طور پر یہ ہوتی ہے کہ کیسا عجیب ہے ، وہ خالق جس نے پوری دنیا کو میرے لیے کسٹم میڈ دنیا بنا دیا۔ رحم مادر ، اسی طرح خارجی دنیا کا پورا نظام ، عین وہی ہے ، جو انسان کے لیے مطلوب تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے لیے بنا ہے ، اور دنیا انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues