ایک مسلم خاتون
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۴۹
خبر نامہ اسلامی مرکز - 272
سی پی انٹرنیشنل کا پرائم مقصد تمام انسانوں خدا کے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں وہ دیگر دعوتی ایکٹیویٹیز کے علاوہ بک میلے میں بھی حصہ لیتی ہے۔ کیوں کہ یہاں پر زیادہ تعداد میں وہ لوگ آتے ہیں، جن کو مطالعے سے دلچسپی ہو۔ حالیہ دنوں میں منعقد ہونے والے کچھ مشہور بک فیر یہ ہیں: کراچی انٹرنیشنل بک فیر (5-9 دسمبر 2019)، جدہ انٹرنیشنل بک فیر (21-12 دسمبر 2019)، نئی دہلی ورلڈ بک فیر (12-4 جنوری 2020)، چنئی بک فیر (21-9 جنوری 2020)، دوحہ انٹرنیشنل بک فیر (18-9 جنوری 2020)، کولکاتہ لٹریری فیسٹول (19-17 جنوری 2020)، انٹرنیشنل کولکاتہ بک فیر (29 جنوری تا 9 فروری 2020)، جے پور لٹریچر فیسٹیول (27-23 جنوری 2020)، کولکاتہ کل ہند اردو کتاب میلہ (26-18 جنوری 2020)، لاہور انٹرنیشنل بک فیر (10-6 فروری، 2020)، 2020)،کنٹرا ساہتیہ سمیلن گلبرگہ (7-5 فروری 2020)، وغیرہ۔ ان تمام ایونٹس میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے مقامی اور دوسرے مقام کے ممبران نے حصہ لیا۔ انھوں نے میلے میں آنے والوں کو خدا کے پیغام سے آگاہ کرنے کے لیے ان کی قابل فہم زبانوں میں ترجمہ قرآن دیا۔ اس سلسلے میں کچھ تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں: ☆ نئی دہلی ورلڈ بک فیر میں سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی نے گڈ ورڈ بکس کے ساتھ مل کر حصہ لیا تھا۔ مشہور اردو اخبار روزنامہ سہارا (کولکاتہ ایڈیشن) نے 19 جنوری 2020کےاپنے امنگ ایڈیشن (صفحہ 4) میں اس عنوان کے تحت ایک آرٹیکل شائع کیا: ’’توجہ کا مرکز رہا گڈ ورڈ‘‘۔ مضمون کا خلاصہ یہ ہے: اسلامی کتابوں کو دستیاب کراتے وقت اکثر کچھ باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مثلاً بچوں کو مذہب آسانی سے سمجھایا جائے، ان لوگوں کے لیے عام فہم زبان میں مذہبی کتابیں لکھی جائیں جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، غیر مسلموں کے لیے مذہبی کتابیں انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں میں ہوں۔ ان موضوعات پر کتابیں ہوں، جنھیں پڑھ کر کوئی اسلام کے انسانیت کے پیغام کو سمجھ سکے۔ یہ جان سکے کہ اسلام نے امن سے زندگی بسر کرنے اور بھائی چارے پر بہت زور دیا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کا خیال گڈ ورڈ بکس نے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کتاب میلہ میں اس کے اسٹال پر بڑی تعداد میں غیر مسلم بھی نظر آئے، جو اسٹال سے قرآن کا ترجمہ حاصل کر رہے تھے۔
☆ نئی دہلی بک فیر کا ایک تجربہ یہ ہے کہ جب میں نے ایک سکھ طالبہ کو جب قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا، تو اس نے شکریہ کے ساتھ قرآن کا ترجمہ لے لیا۔ مگر کچھ دیر کے بعد اس نے قرآن کا ترجمہ یہ کہتے ہوئے واپس کر دیا کہ یہ آپ واپس لے لیجیے، شاید میں اس کی رسپیکٹ نہیں کر پاؤں گی۔ جب وہ قرآن واپس کر رہی تھی، تو اس وقت اسٹال پر ایک اور سکھ نوجوان قرآن لے رہا تھا۔ اس نے رسپیکٹ کی بنیاد پر قرآن نہ لینے کی بات سن کر کہا: میں اس قرآن کو لے جا رہا ہوں، اور میں اس کو ضور ورسpekt دوں گا، اور پڑھوں گا (مولانا فرہاد احمد)۔ ☆ مسٹر فراز خان (دہلی ٹیم) کے ساتھ جے پور لٹریچر فیسٹیول میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ یہ جب قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues