ایک مسلم خاتون
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۵۰
کا ترجمہ لوگوں کو دے رہے تھے، تو وہاں پر غیر مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا ایک گروپ آیا۔ ان لوگوں نے قرآن دیکھا، توان میں سے ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر ترجمہ قرآن لینا چاہا۔ یہ دیکھ کر اس کے ایک ساتھی نے اس لڑکی سے پوچھا کہ تم نے گیتا پڑھی، جو تم قرآن پڑھنا چاہتی ہو۔ لڑکی نے جواب دیا کہ کوئی بات نہیں، میں پہلے قرآن پڑھ لیتی ہوں، اس کے بعد گیتا بھی پڑھ لوں گی۔ یہ کہہ کر اس نے ترجمہ قرآن حاصل کیا۔ اس بعد تمام لوگوں نے بہت خوشی سے قرآن کا ترجمہ شکر یہ کہتے ہوئے حاصل کیا۔
مولاناسید اقبال احمد عمری ( تامل ناڈو) نے جے پور لٹریچر فیسٹیول اور کنڑا ساہتیہ سمیلن میں حصہ لیا تھا۔ انھوں نے اپنا تاثر درج ذیل الفاظ میں لکھا ہے:
٭ جے پور لٹریچر فیسٹیول میں ترجمہ قرآن لینے والوں کے تاثرات بہت اچھے رہے۔ مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ جو ترجمہ قرآن آپ تقسیم کرتے ہیں، وہ میں نے پڑھا ہے، یہ بہت آسان اور عمدہ ہے۔ اسی طرح ایک نان مسلم خاتون نے جب قرآن کو دیکھا تو قریب آ کر خوشی سے کہا: اوہ قرآن، کیا یہ مجھے مل سکتا ہے، اس کی قیمت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کے لیے اسپرچول گفٹ ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ ریلی فری آف کوسٹ، ویری گڈ، اور بخوشی لیکر چلی گئیں۔ اس طرح بہت سے لوگ خوشی خوشی قرآن کا ترجمہ مانگ کر لے گئے۔ ٭ 5 تا 7 فروری 2020 کنڑا ساہتیہ سمیلن کلبرگی ( سابق گلبرگہ ) کرناٹک میں منعقد ہوا۔ اس میں رائچور، بنگلور، چینی، تماپور، اور گلبرگہ کی سی پی ایس ٹیموں نے مل کر گڈورڈ کا بکس سٹال لگایا، اور الرسالہ مشن کی اردو اور انگریزی کتابیں، خصوصاً پاکٹ سائز کا کنڑا ترجمۂ قرآن رعایتی قیمت پر دیا۔ ہمارے اسٹال پر آنے والے زیادہ ترنان مسلم تھے، انھوں نے قیمت ادا کر کے تقریباً ایک ہزارترجمۂ قرآن لیا۔ قرآن کو ہاتھ میں لیتے وقت ان کے چہرے کی خوشی، اور ان کے کہے ہوئے الفاظ، دونوں دعوتی مشن کو بوسٹ (boost) کرنے والے بنے۔ مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ کئی سال سے میں کنڑ اترجمہ قرآن کی تلاش میں تھا۔ آج میں نے اس کو حاصل کر لیا۔ ایک صاحب نے قرآن اپنے ہاتھ میں لیکر اسے کھولا، اور پڑھنا شروع کیا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ میں نے صرف دو سطریں پڑھی ہیں۔ میرے سرکا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے، اور میرا جسم کانپ رہا ہے۔ ایک نان مسلم نے سوال کیا کہ آپ قرآن دے رہے ہیں، قرآن کے بارے میں آپ کا اپنا ذاتی تجربہ کیا ہے؟ اس سوال نے مجھے اندر سے ہلا دیا۔ اس نے مجھے دوبارہ قرآن کو پڑھنے کی ترغیب دی۔ اسی طرح دو عیسائی نوجوان آئے، اور انھوں نے ہمارے اسٹال سے بائبل تقسیم کرنے کی اجازت مانگی۔ ہم نے ان کو اجازت دے دی۔ جب بائبل دے رہے تھے، تو ساتھ ہی ساتھ وہ ہمارے پاس موجود پیغمبر اسلام کی سیرت کی کتابیں بھی آنے والوں کو دے رہے تھے، اور قرآن بھی۔ اس تجربہ سے مجھے یہ سبق ملا کہ دوسروں کو موقع دو گے، تو مزید مواقع ملیں گے۔ ان تجربات سے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ مدعو کی زبان میں قرآن کی اشاعت ہی وہ گول ہے، جس کو سنگل گول کی حیثیت سے اپنی زندگی میں اختیار کرنا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues