Al-Risala · August 2020 · page 9

غضب، رحمت

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۹

غضب، رحمت

اللہ کی صفت غضب بھی ہے اور رحمت بھی۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ اللہ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ اس کو اپنے غضب کا تجربہ کرائے تو یہ بلاشبہ اللہ رب العالمین کا ایک کمتر اندازہ (underestimation) ہوگا۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ اللہ رب العالمین اس کو اپنی رحمت کا تجربہ کرائے۔ یہی تصور اللہ رب العالمین کی شان کے مطابق ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (7:156)۔ یعنی میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو۔ ایک حدیث قدسی میں اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7422)۔ یعنی میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔

باپ کے اندر اپنے بیٹے کے لیے ایک اعلیٰ شریفانہ جذبہ ہوتا ہے، جس کو پدرانہ شفقت (fatherliness) کہا جاتا ہے۔ یہ جذبہ باپ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی غلطی کو سنبھالے، وہ اپنے بیٹے کو اس کی غلطی کا انجام بھگتنے نہ دے۔ یہ صفت بلاشبہ خالق کے اندر بے شمار گنا حد تک زیادہ ہے۔ اس صفت کی بنا پر جس طرح خالق کے غضب پر اس کی رحمت غالب آ جاتی ہے۔ اسی طرح بندے کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے مہربان خالق کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کی رجاء (hope) اس کے خوف پر غالب آ جاتی ہے۔ وہ یہ امید کرتا ہے کہ اس کا مہربان خالق اس کی غلطیوں کو سنبھالے گا، وہ اس کو اس کی غلطیوں سے بچا لے گا۔ یہ احساس آدمی کو اللہ کی رحمت کا یقین دلاتا ہے۔ زندگی کا یہ تصور اگر آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ ایک طرف وہ ہمیشہ آخرت کی پکڑ سے ڈرتا رہے، دوسری طرف یہ مزاج اس کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کے بارے میں پرامید (hopeful) بنار ہے ۔ رحمت، اللہ کی صفت عام ہے، اور اللہ کا غضب ایک استثنائی (exceptional) معاملہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page