بگ برڈ تھنکنگ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۱۵
بگ برڈ تھنکنگ
صبر کی حقیقت کیا ہے، اس کو بیان کرتے ہوئے خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب (وفات 23ھ) کا ایک قول کتابوں میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : إِنَّ أَفْضَلَ عَيْشِ أَدْرَكْنَاهُ بِالصَّبْرِ، وَلَوْ أَنَّ الصَّبْرَ كَانَ مِنَ الرِّجَالِ كَانَ كَرِيمًا (الصبر والثواب عليه لابن أبي الدنيا، اثر نمبر 6) ۔ یعنی بیشک افضل زندگی ہم نے صبر میں پائی ، اور اگر صبر انسان ہوتا، تو وہ کریم ہوتا۔ یہ دراصل صابر انسان کی پہچان (identity) ہے۔ جس آدمی کے اندر صبر کا مزاج ہو، اس کے اندر اسی قسم کی اعلیٰ انسانی صفت موجود ہوگی۔ کریم انسان سے مراد شریف اور سنجیدہ انسان ہے۔ جو اعلیٰ سوچ کا مالک ہو، جو بولنے سے پہلے سوچے، جو بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کو بہتر سمجھتا ہو، جو بولے کم، اور سوچے زیادہ، جس کے اندر ردعمل (reaction) کا مزاج نہ ہو، وغیرہ۔ اعلیٰ سوچ کیا ہے۔ اعلیٰ سوچ ایک لفظ میں بگ برڈ تھنکنگ (Big Bird Thinking) کا دوسرا نام ہے۔ بگ برڈ تھنکنگ کی حقیقت یہ ہے کہ جب خطر ناک طوفان آتے ہیں، تو وہاں پر موجود چھوٹے چھوٹے پرندے جو زیادہ اوپر نہیں اڑ پاتے ہیں، وہ طوفان میں پھنس کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ، بڑے پرندے، جو اونچائی پر اڑان بھرتے ہیں، وہ طوفان سے بچنے کے لیے مزید اوپر چلے جاتے، جہاں طوفانی ہواؤں کا اثر نہیں ہوتا۔ اس طرح وہ طوفان سے اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں۔ ایک سچے انسان کو اپنے اندر یہی مزاج ڈیولپ کرنا چاہیے، یعنی مثبت سوچ کا مزاج۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو ان چیزوں کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکے، جن کو وہ بدل نہیں سکتا : In countries where there are severe storms, birds with small wings are caught up in them, but large birds with strong wings fly upwards and save themselves from becoming victims of these storms. This phenomenon has given rise to the saying:
'Big bird of the storm.' A spiritual person is one who has developed the capacity for 'big bird' thinking.
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues