غلطیوں کی معافی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۱۶
غلطیوں کی معافی
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوْا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک شخص جب کلمہ پڑھتا ہے، تو عین اسی وقت یہ ہوتا ہے کہ کلمہ کی برکت سے اس کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ ایمان قبول کرنے سے پہلے انسان جو عمل کرتا ہے، وہ ایمان قبول کرنے کے بعد معاف کر دیا جاتا ہے۔ لیکن معافی کا یہ عمل اس طرح نہیں ہوتا، جیسے کمپیوٹر میں ایک بٹن دبایا، اور سارا ٹائپ کیا ہوا، فوراً ہی ڈیلیٹ ہو گیا۔ یہ سارا معاملہ ایک پر اس کے تحت انجام پاتا ہے، نہ کہ پیج بٹن میکانزم کی مانند۔ ایمان ایک دریافت کا نام ہے۔ ایمان ایک معرفت ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی زندگی پر غور و فکر کرے، اور پھر فکری دریافت کے طور پر اس پر کھلے کہ اس کا خالق اللہ رب العالمین ہے۔ اس کو جو کچھ ملا ہے، وہ اللہ رب العالمین کا دیا ہوا ہے۔ اللہ رب العالمین نے اس کو ایک با مقصد منصوبے کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس غور و فکر کے نتیجے میں اس پر تخلیق کی حکمت کھلے۔ وہ شعوری پر یہ فیصلہ کرے کہ اس نے انکارِ خدا کی زندگی کو چھوڑا، اور اقرارِ خدا کی زندگی کو اختیار کیا۔ وہ شعوری طور پر زندگی کے اس نقشے کو اختیار کرے، جو خالقِ کائنات نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔ ایمان ایک شعوری فیصلہ ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی زندگی کی ایک روش کو بالقصد چھوڑے، اور ایک زندگی کی دوسری روش کو بالقصد پورے عزم کے ساتھ اختیار کرے ۔ انسان دنیا پرستانہ زندگی کو ترک کرے، اور آخرت پسندانہ زندگی کو عملاً اختیار کر لے۔ کوئی انسان جب ایسا کرے، تو اللہ کا اعلان ہے کہ وہ اس کو اپنے بندے کے طور پر قبول فرماتا ہے، اور اس کی پچھلی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues