Al-Risala · August 2020 · page 24

دین اسلام

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۲۴

اسلام کا مذہب خدا کے تصور پر قائم ہے۔ اسلام میں خدا مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام دوسری چیزیں خدا کے عقیدے سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ اسلامی عقیدے کی بنیاد خدا کے تصور پر ہے۔ بقیہ تمام چیزیں خدا کے تصور کا حصہ ہیں ، نہ کہ اس سے الگ یا مستقل حصہ۔ اسلام میں خدا کا تصور وحدتِ وجود (monism) کے تصور پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ وہ توحید (monotheism) کے تصور پر مبنی ہے۔ وحدتِ وجود کے تصور میں تمام چیزیں خدا کا حصہ ہیں ، مگر توحید کے تصور میں ایسا نہیں ہے۔ توحید کے تصور میں ، خدا خالق ہے ، اور بقیہ تمام دوسری چیزیں اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہیں۔ خدا اپنی ذات میں ایک علاحدہ اور مستقل وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا تمام چیزوں کا نہ صرف خالق ہے ، بلکہ وہ ان کا رب اور مالک بھی ہے۔

اسلام کے تصور کے مطابق ، انسان اور خدا کے درمیان تعلق قائم کرنے کے لیے کسی تیسرے وسیلے کی ضرورت نہیں۔ ہر انسان براہ راست طور پر خدا سے تعلق قائم کر سکتا ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حیثیت میں خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حیثیت میں خدا کا عبادت گزار بن سکتا ہے۔ ہر انسان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ براہ راست طور پر خدا سے تعلق قائم کر سکے۔ اسلام کی حیثیت ایک کلچر یا ٹریڈیشن (tradition) کی نہیں ہے۔ اسلام کسی سماج کا ظاہرہ بھی نہیں ہے ، بلکہ اسلام ایک الہامی مذہب (revealed religion) ہے۔ وہ خدا کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے ایک ہدایت نامہ ہے۔ اسلام اُسی طرح ہر انسان کی ضرورت ہے ، جس طرح سورج کی روشنی ہر انسان کی ایک ضرورت ہے۔ اسلام کسی کمیونٹی کا کلچر نہیں ، اسلام ہر انسان کی تلاشِ حق کا جواب ہے۔

اسلام کے مطابق ، سچا مسلم وہ ہے جو اپنے دل اور اپنے دماغ کی تبدیلی کے ذریعے مسلم بنے۔ اس لیے اسلام میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔ اسلام از اول تا آخر امن کا مذہب ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اپنے مقصد کو پر امن طریقِ کار کے ذریعے حاصل کرو، اور اگر امن کا طریقہ حصولِ مقصد میں مؤثر نہ ہو، تو صبر کرتے ہوئے اپنی ذاتی ذمے داریوں کو ادا کرتے رہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page