Al-Risala · August 2020 · page 23

دین اسلام

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۲۳

دین اسلام

اسلام عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اُس کا لفظی مطلب سرینڈر کرنا (to surrender) ہے۔ اس سے اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے اختیار سے خدا کی اطاعت کرنے والا بن کر رہے، وہ اپنے آپ کو خدا کے حکموں کا تابع بنالے۔ انسان کو اس دنیا میں پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرے، اور جو چاہے نہ کرے۔ یہ آزادی جو انسان کو ملی ہے، وہ کسی حق یا انعام کے طور پر نہیں ملی ہے، بلکہ وہ صرف امتحان کے لیے ہے۔ اس دنیا میں انسان کے لیے صرف ایک ہی انتخاب (choice) ہے، اور وہ یہ کہ وہ اپنی آزادی کو خدائی احکام کے دائرے میں استعمال کرے۔ اسلام کے مطابق ، انسان کی زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے۔ موت سے پہلے کا مرحلہ، اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عارضی ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ مستقل۔ زندگی کے موجودہ مرحلے میں انسان جس طرح عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، اگلے دور حیات میں وہ اس کا صلہ پائے گا۔ اچھا عمل کرنے والوں کے لیے اگلے دور حیات میں انعام ہے، اور بُرا عمل کرنے والوں کے لیے اگلے دور حیات میں سزا۔

اسلام کی ایک لمبی تاریخ ہے جو اس کے آغاز کے بعد بنی۔ لیکن اسلام کیا ہے، اس کو جاننے کا ماخذ تاریخ نہیں ہے، بلکہ اسلام کا اسکرپچر (scripture) ہے، یعنی قرآن، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات۔ جس آدمی کو جاننا ہو کہ اسلامی مذہب کیا ہے، اس کو براہ راست قرآن اور حدیث رسول کو دیکھنا چاہیے۔ اس کے بغیر وہ اسلام پر صحیح رائے قائم نہیں کرسکتا۔ اسلام کوئی نسلی مذہب نہیں ہے۔ تمام انسان یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ لوگوں کی نجات کا فیصلہ اس پر نہیں کیا جائے گا کہ وہ پیدائشی طور پر کس نسل سے تعلق رکھتا ہے، بلکہ اس پر کیا جائے گا کہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولی معیار پر کون شخص پورا اترا، اور کون شخص پورا نہیں اترا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page