انسان کا جسم
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۲۶
انسان کا جسم
بڑھاپا کیا ہے۔ آدمی کے اعضاء میں کمزوری پیدا ہو جائے۔ اعضا میں اپنا عمل کرنے کی طاقت کم ہو جائے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے جسم کے اندر بہت سے آرگن ہیں۔ یہ آرگن جسم کی پوری مشین کو چلاتے ہیں۔ ان میں سے وائٹل آرگنز (vital organs) پانچ ہیں۔ وہ یہ ہیں۔ برین، ہارٹ، کڈنی، لیور، اور لنگس۔ انھیں آرگن کے فنکشن پر سارے جسم کی کارکردگی منحصر ہوتی ہے۔ موت یہ ہے کہ انسان کے آرگنز اپنا عمل کرنا بند کر دیں۔ اس کو میڈیکل سائنس کی زبان میں ملٹی آرگن فیلیر (multi-organ failure) کہا جاتا ہے۔ آرگن کے فنکشن کا جاری رہنا، یا اس کے فنکشن کا بند ہو جانا، حیرت انگیز واقعہ ہے۔ ان کا انسان کی مرضی سے تعلق نہیں، وہ تخلیقی نظام کے تحت مسلسل طور پر اپنا عمل جاری رکھتے ہیں، اور جب ان کا عمل جاری نہ رہے، تو اسی کا نام موت ہے۔ اس معاملے کو قرآن میں تنکیس خلقت کہا گیا ہے (یس، 36:68)۔ آرگن کا فنکشن ایک خود کار عمل ہے۔ انسان نہ اس کے بقا پر کوئی قدرت رکھتا ہے، اور نہ اس کے خاتمے پر۔ انسانی جسم میں آرگن کی موجودگی، اور ان کا عمل انسان کے لیے ایک ناقابل توجیہہ نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ انسان کے لیے شکر خداوندی کا بہت بڑا آئٹم ہے۔ یہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے، جس کی تخلیق پر انسان قادر نہیں، اور نہ ان کی صحت اور بقا پر قادر ہے۔ یہ انسان کے لیے ایک ایسی نعمت ہے، جو یک طرفہ عطیے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ آرگن انسان کے جسم میں کیسے وجود میں آتے ہیں۔ کیسے وہ خود کار مشین کی طرح اپنا کام کرتے رہتے ہیں، اور پھر انسان کی مرضی کے بغیر ان کا جزئی یا کلی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ سب چیزیں تخلیق کے اسرار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انسان اس نعمت پر جتنا زیادہ غور کرے، اتنا ہی اس کے تعلق باللہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
برٹش شاعر والٹر (Walter de la Mare) کا واقعہ ہے۔ وہ ایک مرتبہ کھانے کی میز پر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues