Al-Risala · August 2020 · page 27

انسان کا جسم

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۲۷

بیٹھا ہوا تھا۔ گھر کے کئی افراد کھانے پینے میں مشغول تھے۔ ان میں ایک لڑکی بھی تھی۔ شاعر اس لڑکی کو دیکھنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ وہ فوڈ آئٹم لیتی ہے، اور اس کو کھاتی ہے۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ کھانا، جو لڑکی کھا رہی ہے، وہ کھانا جسم میں پہنچ کر خون اور گوشت اور ہڈی کی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے شعر کہا:

It's a very odd thing/As odd can be/That whatever Miss T eats/Turns into Miss T. کھانا کھانے کے بعد انسان کے جسم میں کیسا حیرت انگیز واقعہ پیش آتا ہے، یعنی کھانا اور پانی جسم کے اندر انسان کی شخصیت کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔

انسان جو غذا اپنے جسم میں داخل کرتا ہے، وہ ایک پیچیدہ نظام کے تحت خون میں تبدیل ہوتی ہے۔ خون کا بننا، خون کا مسلسل گردش کرنا اور خون کی صفائی کا انتظام، وغیرہ۔ یہ ایک معجزاتی واقعہ ہے، جو ہر دن ہر انسان کے جسم میں پیش آتا ہے۔ یہ معجزاتی واقعہ کیسے وقوع میں آتا ہے۔ اس کے لیے قدرت نے انسان کے جسم میں تقریباً ایک سو حیرت انگیز عامل بنائے ہیں، جن کو آرگرز (organs) کہا جاتا ہے۔ یہ آرگن ایک خود کار مشین کی طرح رات دن کام کرتے ہیں۔ انسان نہ ان کو حرکت میں لا سکتا ہے، اور نہ وہ ان کی حرکت کو بند کر سکتا۔ میڈیکل سائنس میں اسی نظام کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق جسم کا یہ نظام جو مسلسل طور پر انسان کے اندر عمل کرتا ہے، یہ بہت ہی حیرت انگیز معاملہ ہے۔

اسپتال میں انسانی جسم کے میکنزم مطالعہ کیا جاتا ہے، اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کیسے یہ زندہ مشین مسلسل حرکت کرتی ہے۔ اس مطالعے میں جب کوئی بگاڑ دکھائی دیتا ہے تو ڈاکٹر کوشش کرتے ہیں کہ اس جسمانی بگاڑ کو خارجی ٹریٹمنٹ کے ذریعے دوبارہ فطری حالت پر واپس لایا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا جسمانی نظام خالق کا ایک حیرت انگیز عطیہ ہے۔ انسان اگر اس کے بارے میں سنجیدہ ہو کر سوچے تو وہ اپنے خالق کا اتنا زیادہ شکر گزار بن جائے کہ خالق کے شکر کے سوا کوئی اور چیز اس کو یاد نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page