غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۳۵
طرح بیان کیا ہے: جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہیں ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا (معجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258)۔ اختلاف کے وقت دانش مند آدمی کے لیے پہلا آپشن کیا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اس سے صلح کر لی جائے۔ پیغمبر اسلام کی یہی سنت رہی ہے۔ اسی سنت کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو کتاب اور حکمت کے ساتھ بھیجا۔ کتاب سے مراد قرآن ہے، اور حکمت سے مراد وہی چیز ہے، جس کو پریکٹیکل وزڈم کہا جاتا ہے۔ پریکٹیکل وزڈم کی وجہ سے آپ کو ملنے والی چیز ابتدا میں بہ ظاہر کم نظر آتی ہے۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر بہت سے صحابہ کو لگا تھا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آئیڈیل وزڈم نتیجے کی اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، پریکٹیکل وزڈم غیر ضروری نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچادیتی ہے۔ پریکٹیکل وزڈم ہمیشہ آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ اس کو اسٹارٹنگ پوائنٹ مل جائے۔ اسٹارٹنگ پوائنٹ سے آغاز کر کے آدمی زیادہ کو پاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول پر مبنی تھی۔
غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی
ایک صاحب کا مضمون پڑھا، اس کا پہلا جملہ یہ تھا: مسائل تو اس امت کو ورثے میں ملے ہیں۔ یہ پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ قاری کو اس مضمون سے کیا ملے گا۔ مسلم قاری کا ذہن منفی ذہن بنے گا۔ وہ سمجھے گا کہ میری زندگی مسائل سے گھری ہوئی ہے۔ اس سے اس کے اندر شکایتی ذہن پیدا ہوگا، جو بڑھ کر کے نفرت کا ذہن بن جائے گا۔ اب اگر اس کے حالات ٹکراؤ کے موافق ہیں، تو وہ ٹکراؤ شروع کر دے گا، اور اگر ایسا نہیں ہے تو قاری مستقل طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ میں جینے لگے گا۔ یعنی وہ زمانے سے نفرت کی سوچ کے ساتھ جئے گا۔ مگر عملاً وہ مصالحت کی زندگی گزارے گا۔ مسلم شعرا کے یہاں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً اقبال کا یہ شعر:
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues