پریکٹیکل وزڈم
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۳۴
پریکٹیکل وزڈم
اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا، جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا۔ ایسے موقع پر ہمیشہ یہ عقل کی بات ہوتی ہے کہ آدمی کم پر راضی ہو جائے۔ آئیڈیل کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اس دنیا میں اجتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind) سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔ جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ جہاں رد عمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ری ایکشن کا شکار ہو کر ایسا منصوبہ بناتا ہے، جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے اس کا مطلوب آئیڈیل کی بنیاد پر حاصل ہو۔ اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھے۔ اس طرح مسئلہ کسی مزید دشواری کے بغیر بہ آسانی حل ہو جائے گا۔ اس دنیا میں اختلاف کے معاملے میں آپشن دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil) اور بڑے شر (greater evil) کے درمیان ہوتا ہے۔ اسی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیر الشرین کہا ہے (العقد الفرید، جلد 2، صفحہ 110-109)، یعنی عقل مند وہ ہے، جو دو برائیوں (evils) میں سے کمتر برائی (شر) کو پہچانے۔ اگر آدمی چھوٹے شر پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد اس کو جس چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، وہ بڑا شر ہے۔ اس حقیقت کو صحابی رسول عمیر بن حبیب بن خماشہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues