اینٹی سیلف انسان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۳۸
بجاتے ہیں۔ اس کو تیزی سے سستی مقبولیت (cheap popularity) حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ میڈیا میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ خوبصورت الفاظ بولنا ہی اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ ہر جگہ سنا جائے۔ میڈیا میں اور اخبارات میں اس کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ مجلسوں میں اس کا چرچا ہوتا ہے، وغیرہ۔ اسٹیج کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے اندر وہ مزاج بن جاتا ہے، جس کو ایک ہندو مفکر نے باہری یاترا کا نام دیا تھا، یعنی سیلف تھنکنگ (self-thinking) کے بجائے اکسٹرنل تھنکنگ۔ انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت۔ کان کے اندر سننے کی صلاحیت، وغیرہ۔ اسی طرح انسان کو عقل دی گئی ہے، جو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر اکثر انسان اپنی اس صلاحیت کو درست طور پر استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے منصوبۂ تخلیق سے بے خبر رہتا ہے۔ وہ دوسروں کو اپنی باتیں سناتا رہتا ہے، لیکن خود اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو دریافت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ ایسے لوگ دوسروں کو خوش کرنے والی بولی بولتے ہیں۔ انھیں اس کا وقت نہیں ملتا کہ وہ اپنے بارے میں سوچیں، اور اپنی ذات کے ارتقا کی فکر کریں۔
انسان کو جس دنیا میں جینا پڑتا ہے، وہ گویا ایک عالمی جنگل ہے، اس جنگل میں ہر جگہ حکمت و معرفت کا نیکٹر (nectar) چھپا ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ اللہ نے انسان کو خصوصی صلاحیت دی ہے، جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دی۔ وہ بذریعہ عقل تدبر و تفکر کی صلاحیت ہے۔ تدبر کی صفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔ وہ غور و فکر کر کے حکمت و معرفت کے چھپے ہوئے نیکٹر کو دریافت کرے۔ جن لوگوں کے اندر تدبر کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ شہد کی مکھی کی مانند انسانی تہذیب کے اس جنگل میں معرفت کا نیکٹر دریافت کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے اپنے آپ کو وہ انسان بناتے ہیں، جس کو صاحب معرفت انسان (realized soul) کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues