اخلاقیات کا معاملہ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۳۹
اخلاقیات کا معاملہ
اخلاقیات (ethics) کا معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہبی شریعت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ سیکولر دستور کا معاملہ ہے۔ اخلاق کی صحت کے لیے کوئی مذہبی شرط نہیں ہو سکتی۔ اخلاق کی صحت کے لیے صرف ایک ہی قابلِ قبول شرط ہے، اور وہ یہ کہ اخلاقی اصول کو انصاف کے مطابق ہونا چاہیے۔ اخلاق کے لیے ضروری ہے کہ وہ باہمی طور پر قابلِ قبول (mutually acceptable) معاملہ ہو، اور پورے سماج کے ہر فرد کو یکساں طور پر درست نظر آئے۔ اخلاق وہی ہو سکتا ہے، جو سماجی تعمیر کے اصول پر مبنی ہو۔ اخلاق سماجی انصاف کا موضوع ہے، اور سماجی انصاف اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک سیکولر موضوع ہے۔ اخلاق کا معیار (criterion) صرف ایک چیز ہے، اور وہ فطری انصاف (natural justice) ہے۔ مذہب کو اخلاقیات کا معیار بنایا جائے تو کبھی اخلاقی سماج نہیں بنے گا۔ اس کے برعکس، نیچرل جسٹس کی بنیاد پر اخلاق کا نظام بنایا جائے تو وہ بہ آسانی قائم ہو جائے گا۔ کیوں کہ نیچرل جسٹس سب کے لیے قابلِ قبول بنیاد ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ قرآن میں میزان (الحدید، 57:25) کا لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ میزان سے مراد شرعی میزان نہیں ہے، بلکہ فطری میزان ہے۔ یعنی فطری شعور کی سطح پر ہر انسان کے اندر پایا جانے والا نظام۔ اخلاق کیا ہے۔ اخلاق در اصل صحیح سماجی سلوک (right social conduct) کا نام ہے۔ ایک فرد جب سماج کے اندر زندگی گزارتا ہے، تو اس وقت اس کی کچھ اجتماعی ذمہ داریاں بن جاتی ہیں۔ ان اجتماعی ذمہ داریوں کو اس طرح نبھانا کہ فرد اور سماج دونوں کے تقاضوں کی ادائیگی کے درمیان کوئی ٹکراؤ پیش نہ آئے۔ اس اعتبار سے اخلاق ان اصولوں نام ہے، جس سے سماج کی تنظیم ہو۔ اخلاق فطرت انسانی کا سبجکٹ ہے، وہ قانون کا سبجکٹ نہیں۔
اس تعریف کے مطابق، درست اخلاق وہ ہے، جس میں فرد اور سماج دونوں کے تقاضے اس طرح پورے ہو رہے ہوں کہ ایک دوسرے کے لیے پرابلم نہ بنے۔ فرد اپنی زندگی کی پلاننگ اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues