اخلاقیات کا معاملہ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۴۰
طرح کرے کہ اس کے اپنے انفرادی تقاضے بھی پورے ہورہے ہوں، اور اسی کے ساتھ سوسائٹی کے اجتماعی تقاضوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ فرد کو بھی یہ موقع ہو کہ وہ اپنی شخصیت کی تعمیر کسی رکاوٹ کے بغیر کر سکے، اور اسی طرح سوسائٹی کو بھی یہ موقع ہو کہ اس کی اجتماعی ترقی درست طور پر جاری رہے۔ غور کیا جائے تو اس لحاظ سے اخلاق کی تعریف یہ قرار پاتی ہے کہ فرد کے اندر سوشل ذمے داریوں کا پورا احساس موجود ہو۔ وہ قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہو۔ ہر فرد یہ جانے کہ سماج کا دوسرا فرد کس صورت حال میں کیسا عمل کرے گا تا کہ دوسرا شخص اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی زندگی کا منصوبہ اس طرح بنائے، جو دوسروں سے ٹکراؤ کے بغیر کامیابی کے ساتھ جاری رہے۔
اس اعتبار سے اخلاق گویا انفرادی ترقی اور سماجی ترقی کے درمیان مطابقت (coordination) کے ساتھ زندگی گزارنے کا دوسرا نام ہے۔ مثال کے طور پر رات کا وقت ہے، اور ایک شخص کے گھر سے کوئی اچھی خبر آتی ہے۔ اب اگر اس وقت خبر پانے والا خوشی منائے تو اس کے پڑوسی کی نیند خراب ہوگی۔ اس لیے خبر پانے والے کو خوشی منانے کا ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو بلا آواز طریقہ ہو، نہ کہ با آواز طریقہ۔
قابل عمل اخلاق وہی ہوسکتا ہے، جو سب کے لیے باہمی طور پر قابل قبول (mutually accepted) معاملہ ہو۔ مثال کے طور پر حکومت سازی کا معاملہ ہو، اور اس کے لیے الیکشن کرایا جائے تو الیکشن کو فری اینڈ فیر (free and fair) بنیاد پر ہونا چاہیے۔ کیوں کہ فری اینڈ فیر بنیاد ایک ایسا اصول ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہے۔ اسی طرح کوئی نزاعی معاملہ ہو تو اس کو قانون ملکی (law of the land) کے مطابق سیٹل کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ملکی قانون سماج کے تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنیاد دیتا ہے، جس میں کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا، وغیرہ۔ عبادت کے معاملے میں اسلام کا الگ اصول ہوسکتا ہے، لیکن سماجی اخلاقیات کے معاملے میں اسلام کا اصول بڑی حد تک وہی ہوگا، جو سماج کے دائرے میں سب کے لیے قابل قبول ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues