فطرت کا سبق
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۴۳
فطرت کا سبق
کائنات میں ان گنت ستارے اور سیارے ہیں۔ یہ سب کے سب وسیع خلا کے اندر ہر لمحہ گھوم رہے ہیں۔ خلا گویا کہ لاتعداد متحرک اجسام کی دوڑ کا ایک اتھاہ میدان ہے۔ مگر حیرت ناک بات ہے کہ ان ستاروں اور سیاروں میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔
اس کا راز کیا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ ہر ستارہ اور ہر سیارہ نہایت پابندی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گھومتا ہے۔ وہ اپنے مدار سے ذرا بھی باہر نہیں جاتا۔ حرکت کا یہی قانون ہے جو ان ستاروں اور سیاروں کو آپس میں ٹکرانے سے مسلسل روکے ہوئے ہے۔
ٹھیک یہی طریقہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کی دوڑ کے لیے بھی خالق کائنات نے ایک دائرہ مقرر کر دیا ہے۔ ہر انسان کو اسی محدود دائرے کے اندر حرکت کرنا ہے۔ جب تمام انسان اپنے اپنے دائرے میں حرکت کریں تو سماج میں اپنے آپ امن کی حالت قائم ہو جاتی ہے، اور جب لوگ اپنی حد میں نہ رہیں بلکہ مقرر حد کو توڑ کر ادھر اُدھر دوڑنے لگیں تو ایسے سماج میں لازماً نزاع شروع ہو جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا کر اپنے آپ کو بھی تباہ کریں گے، اور دوسرے کی تباہی کا بھی سامان فراہم کریں گے۔
اختلاف کے وقت
اختلاف انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ جس طرح عام لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے، اسی طرح مخلص اور مومن کے درمیان بھی اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جا سکتا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویہ پر قائم رکھے ۔ اختلاف پیش آنا بُرا نہیں، بُرا یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے کے بعد آدمی دشمنی اور انتقام میں مبتلا ہو جائے۔
سچا انسان وہ ہے، جو اختلاف کو دشمنی کا مسئلہ نہ بنائے ۔ اختلاف کو اسی دائرے تک محدود
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues