عدم یکسانیت
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۴۴
رکھے جہاں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ایک معاملے میں اختلاف کی وجہ سے کسی کو ہر معاملے میں غلط سمجھ لینا، ایک معاملے میں اختلاف پیش آنے کے بعد اس کو منافق، بد نیت اور غیر مخلص کہنے لگنا، یہ سراسر غیر خدائی طریقہ ہے۔
اختلاف پیش آنے پر تعلقات ختم کرنا صحیح نہیں۔ اختلافی مسئلے پر سنجیدہ بحث جاری رکھتے ہوئے باہمی تعلقات کو بدستور قائم رکھنا چاہیے۔ اختلاف والے شخص سے سلام و کلام بند کرنا یا اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دینا کسی بھی حال میں درست نہیں۔
موجودہ دنیا میں ہر چیز لرننگ کے لیے ہے۔ اسی طرح اختلاف بھی لرننگ کے لیے ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اختلاف سے کوئی نئی لرننگ حاصل کرے، نہ کہ کوئی ایسا غلط اقدام کرے، جو لرننگ کے خلاف ہو۔ اختلاف کے وقت انصاف پر قائم رہنا بلا شبہ ایک مشکل کام ہے۔ مگر وہ انسان ایک اعلیٰ انسان ہے، جو اختلاف اور نزاع کی صورت پیش آنے کے باوجود اپنے دل کو دشمنی اور انتقام کی نفسیات سے بچائے، اختلاف کے باوجود وہ انصاف کی روش پر قائم رہے۔
عدم یکسانیت
خالق نے انسانی زندگی کو جس اصول پر بنایا ہے، اس میں یکسانیت (uniformity) نہیں ہے، بلکہ عدم یکسانیت (dis-uniformity) ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ یعنی انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ مختلف انسانوں کی سوچ کبھی یکساں نہیں ہو سکتی۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ لوگوں کی سوچ میں یکسانیت (uniformity) نہ ہو۔ لیکن اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ ہر جگہ اور ہمیشہ پایا جاتا ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ دو مختلف انسان اپنی مختلف صلاحیتوں کو متحدہ طور پر استعمال کرکے زیادہ مفید انداز میں سماجی زندگی کا حصہ بنیں۔ تاہم اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار ایک کو دوسرے سے ناخوش گواری کا تجربہ پیش آتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں، خواہ وہ گھر کے اندر کی ہو یا گھر کے باہر، اس طرح کی ناپسندیدہ صورت حال کا پیش آنا بالکل فطری ہے۔ اس کو رو کنا کسی حال میں ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues