Al-Risala · August 2020 · page 45

عدم یکسانیت

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۴۵

اب ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر اختلاف سے ٹکراؤ کیا جائے۔ ہر ناخوش گواری سے براہ راست مقابلہ کرکے اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کی کوشش غیر فطری ہے۔ اس لیے کہ وہ مسئلہ کو صرف بڑھانے والی ہے، وہ ہرگز اس کو گھٹانے والی نہیں۔ رواداری ایسے مواقع پر قابلِ عمل اصول رواداری (tolerance) اور اعراض (avoidance) کا اصول ہے۔ یہ دونوں اہم معاشرتی اصول اور اعلیٰ انسانی صفات ہیں۔ رواداری کا مطلب دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں عدم رواداری یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے آپ کو جانے، وہ دوسروں کے تقاضے سے بے خبر ہوجائے۔ رواداری ایک اعلیٰ انسانی اسپرٹ ہے۔ اس کو اسلام میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً۔ رفق، تالیفِ قلب، شفقت علی الخلق، وغیرہ۔ سچا انسان وہ ہے، جو خود غرضی کے تحت پیش آنے والی تمام برائیوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔ ایسا انسان عین اپنے مزاج کے مطابق دوسروں کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں سے کسی چیز کا امیدوار نہیں ہوتا اس لیے دوسرے اگر اس سے اختلاف رکھیں یا اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں تب بھی وہ دوسروں کا خیر خواہ بنا رہتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کی رعایت کرتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ اپنے روادارانہ سلوک کو باقی رکھتا ہے۔

رواداری یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں دوسرے کی عزت کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ وہ ہر حال میں دوسرے کو اعلیٰ انسانی درجہ دے، خواہ وہ اس کا اپنا ہو یا غیر۔ وہ دوسرے کے کیس کو ہر حال میں ہمدردی کا کیس سمجھے۔ خواہ دوسرے کی طرف سے بظاہر غیر ہمدردانہ سلوک کا اظہار کیوں نہ ہوا ہو۔

رواداری کا مطلب دراصل دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اجتماعی زندگی میں لازمی طور پر ایک دوسرے کے درمیان اختلافات پیش آتے ہیں۔ مذہب، کلچر، رواج اور ذاتی ذوق کا فرق ہر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page