شہد کی مکھی کا سبق
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۴۹
سوال و جواب سوال قرآن کی ایک آیت ہے: وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُونَ (46:20) ۔ یعنی اور جس دن انکار کرنے والے آگ کے سامنے لائے جائیں گے، (اُن سے کہا جائے گا کہ ) تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان کو برت چکے تو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی، اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔ اس آیت میں اذہاب طیب کا معنی کیا ہے، ایک مومن کو آرام دہ زندگی کا ملنا کتنا مطلوب ہے۔ وضاحت چاہیے۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) جواب قرآن کی اس آیت میں اذہاب طیبات مطلق معنی میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ مطلق معنی میں طیبات اس زمانے میں کسی کو نہیں ملتی تھیں ۔ اُس زمانے میں جو چیز ملتی تھی، وہ کھجور اور اونٹ کا دودھ ہے۔ یہ طیبات کے اسٹینڈرڈ کے مطابق، بہت معمولی چیزیں ہیں۔
اس آیت میں طیبات سے مراد طیبات فطری ہیں، نہ کہ مادی طیبات۔ یعنی طیبات سے مراد غالباً انسانی مصنوعات نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں، جو براہِ راست اللہ رب العالمین کی طرف سے انسانوں کو پہنچ رہی ہیں۔ یعنی وہ تمام چیزیں جو فطری طور پر کسی خاص کسب کے بغیر انسانوں کو ملتی ہیں۔ اس میں رزق کی تمام چیزیں شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تم کو جو مواقع دیے گئے تھے، وہ خداوند عالم کی شکر گزاری کے لیے تھے۔ لیکن تم نے ان طیبات کو او یل نہیں کیا، بلکہ او یل کرنے کا موقع گنوا دیا۔ خداوند عالم کی شکر گزاری کا تعلق تمام فطری نعمتوں سے ہے۔ مثلاً پانی کا برسنا، ہوا کے ذریعے آکسیجن کی سپلائی ۔ زمین سے غذائی اشیاء کا اگنا، وغیرہ وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues