شہد کی مکھی کا سبق
الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۵۰
سوال
مسلمانوں کے درمیان مختلف مسائل پر جاری احتجاج کے پس منظر میں ایک صاحب نے لکھا ہے: ’’احتجاج کے لیے جو جرات درکار تھی، وہ خون میں شامل ہو چکی ہے۔ اب نقصان کی پرواہ مت کیجیے۔ مولا نا وحید الدین خاں صاحب سمجھانا چاہیں، تو ٹال دیجیے۔ ‘‘ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ (عادل خاں، بنگلورو، کرناٹک)
جواب
میرے نزدیک احتجاج کے جواز یا عدم جواز کا سوال نہیں ہے۔ مفید یا غیر مفید ہونے کا سوال ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہوا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ برعکس طور پر ان کے نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود کے الفاظ میں، وہ خوش قسمت ہے، جو دوسرے (کی کامیابی یا ناکامی) سے نصیحت حاصل کرے (السَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 2645۔ احتجاج کے تعلق سے میری یہ رائے کسی عالم دین کی رائے پر مبنی نہیں ہے، بلکہ حدیث رسول پر مبنی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 2317) ۔ یعنی یہ کسی آدمی کے اچھے اسلام میں سے ہے کہ وہ بے فائدہ چیز کو ترک کرے۔ اس حدیث کی تشریح میں محمد بن عبد الہادی السندی لکھتے ہیں: مِنْ جُمْلَةِ مَحَاسِنِ إِسْلَامِ الشَّخْصِ وَكَمَالِ إِيمَانِهِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ مِنْ عَنَاهُ إِذَا قَصَدَهُ ... فَإِنَّ الشَّيْءَ الَّذِي لَا فَائِدَةَ فِيهِ غَيْرُ قَاصِدٍ لِلشَّخْصِ وَلَا مُتَوَجِّهٌ إِلَيْهِ وَلَا مُتَعَلِّقُ بِهِ (حاشية السندی علی سنن ابن ماجه، جلد 2، صفحہ 474، حدیث نمبر 3976)۔ یعنی کسی شخص کے محاسن اسلام اور کمال ایمان میں سے ہے کہ وہ اس کو چھوڑ دے، جواس کے لیے بے معنی ہو۔ (یعنیہ کا لفظ) عناہ سے ماخوذ ہے، (اس کا مطلب ہے) قصد وارادہ کرنا... (یعنی) جس چیز میں انسان کا فائدہ نہ ہو، وہ اس کا قصد نہیں کرتا ہے، نہ وہ اس کی طرف توجہ کرتا ہے، اور نہ وہ اس سے تعلق رکھتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues