قرآن کا طریق مطالعہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۸
کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا اے آدم، ان کو بتاؤ ان کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان کے نام تو اللہ نے کہا۔ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں اور مجھ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ (البقرۃ: 34-2:30) علم الاسماء غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے واقعے میں اسماء (نام) کو بتانے سے مراد غالباً انسان کی تاریخ کا خلاصہ بتانا ہے۔ یعنی وہ تاریخ جو آدم کی اولاد کے زمین پر سرگرم عمل ہونے کے بعد وجود میں آئی۔ انسان سے پہلے اللہ نے جنات کو پیدا کیا (الحجر، 15:27)۔ اس بنا پر فرشتوں کو یہ شک تھا کہ انسان بھی وہی کرے گا، جو اس سے پہلے جنات کر چکے ہیں۔ لیکن انسان کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انسان کے معاملے میں اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ جنت کی صورت میں ایک اعلی مسکن بنائے، اور وہاں انسان جیسی مخلوق کے منتخب افراد کو بسائے۔ انسان کو کامل آزادی دی جائے، جس کو قرآن میں امانت کہا گیا ہے (الاحزاب، 33:72)۔ اس منصوبہ کا مقصد یہ تھا کہ ایک صاحب عقل مخلوق کو پیدا کی جائے، اور اس کو زمین پر آباد کر کے آزادانہ طور پر عمل کا پورا موقع دیا جائے ۔ پھر ان میں سے ایسے افراد منتخب کیے جائیں، جن کے بارے میں تجربے سے یہ ثابت ہو کہ وہ کامل آزادی کے باوجود کامل اطاعت کی صفت رکھنے والے ہوں۔ یعنی کامل آزادی (total freedom) کے باوجود خود اختیار کردہ ڈسپلن (self-imposed discipline) کا حامل ہونا۔
یہاں اس بات کا شدید امکان تھا کہ کامل آزادی کی صورت میں ایسا ہوگا کہ انسانوں کی ایک تعداد اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرے گی لیکن ایسا ہونا ناگزیر تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ ابدی جنت کے مستحق افراد کو وجود میں لانا، اور ایسے افراد اسی وقت پیدا ہو سکتے تھے جب کہ ان کو حقیقی معنوں میں کامل آزادی دے کر یہ رسک (risk) لیا جائے کہ ان میں سے ایک گروہ بھٹکنے والا ہوگا تو دوسرا گروہ ایسا نکلے گا، جو اپنے اختیار کو صحیح طور پر استعمال کرے، اور اپنے آپ کو جنت کا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues