قرآن کا طریق مطالعہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۷
قرآن کے لیے یہ کرنا ہے کہ اس کا قاری اس کو تدبر (ص، 38:29) کے ساتھ مطالعہ کرے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن اپنی اسلوب کے اعتبار سے ربانی حکمت کا مجموعہ (collection of divine wisdom) ہے۔ قرآن میں بیان کردہ انسانی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اسی اصول کو اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن کے مطابق، تاریخ بہ ظاہر انسان کی تاریخ ہے۔ لیکن تاریخ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی طرح ایک خدائی واقعہ ہے، جس طرح تخلیق (creation) ایک خدائی واقعہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ تخلیق مکمل طور پر خدا کا عمل ہے، لیکن تاریخ چوں کہ انسان کے لیے امتحان گاہ ہے، اس لیے تاریخ کے معاملے میں خدا کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو پہنچ کرنا: Managing the course of human history while maintaining human freedom. قرآن کی روشنی میں انسانی تاریخ کی تعبیر کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کا عنوان غالباً یہی ہوگا۔ اس اصول کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا اِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ (22:38) - یعنی بیشک اللہ ان لوگوں کی مدافعت کرتا ہے جو ایمان لائے۔ بیشک اللہ بد عہدوں اور ناشکروں کو پسند نہیں کرتا۔ ان ادوار کے بارے میں قرآن میں اشارات موجود ہیں (دیکھیے: سورہ الاعراف، 7:54 ؛ سورہ یونس، 10:3، وغیرہ)۔ زیادہ تفصیلی بیان اس معاملے میں انسان کی تخلیق کا ہے۔ انسان کی تخلیق کے وقت جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے، جو اللہ رب العالمین اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ کی صورت میں ہوا۔ اللہ اور فرشتوں کا مکالمہ اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان ہونے والا مکالمہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues