قانون دفع
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۳
کے اعتبار سے انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے ساتھ جب غیر مطلوب صورت حال پیش آتی ہے تو وہ انسان کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیت کو بیدار کر دیتی ہے۔ وہ انسان کے اندر یہ محرک (incentive) جگاتی ہے کہ وہ دوبارہ نئے سرے سے کوشش کر کے کامیابی حاصل کرے ۔
فرشتوں نے انسان کے بارے میں سفک دما ء اور فساد کا اندیشہ ظاہر کیا تھا، اللہ تعالی نے سفک دماء اور فساد کے مقابلے میں ممثبت پہلو کا حوالہ دیا، اور فرشتوں کو مظاہرے کی صورت میں بتایا کہ انسان کی یہ صفت اس کے اندر نئی سوچ پیدا کرے گی، اور وہ ایسے کام کر سکیں گے، جو اس سے پہلے نہ حیوانات نے کیا، اور نہ جنات نے۔
تاریخ کے واقعات کو پیش نظر رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان کو جن اوصاف کے ساتھ پیدا کیا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کے لیے فساد فی الارض اور سفک دماء جیسے واقعات اپنے عمل پر نظر ثانی (rethinking) کا ذریعہ بن جائیں گے۔ اس طرح اس قسم کے منفی واقعات اس کے لیے مثبت نتیجہ کا سبب بنیں گے۔ وہ بار بار اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے گا۔ اس طرح منفی واقعات باعتبار نتیجہ اس کے لیے شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کا سبب بن جائیں گے۔ اس کو اپنی غلطیوں سے اپنے لیے نیا ڈائریکشن (new direction) ملے گا۔ اس طرح ہر غیر مطلوب تاریخ کے بعد مطلوب تاریخ بنے گی، اور اس طرح انسان کی تاریخ عملاً صحیح رخ پر سفر کرتی رہے گی، اور اس طرح وہ بڑے بڑے نتائج تک پہنچے گی ۔ اس سلسلے میں چند تاریخ مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ غالباً منفی واقعہ سے ثبت واقعہ نکلنے کا یہی وہ ظاہر ہ ہے جس کو قرآن میں قانون دفع سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قانون دفع
اللہ رب العالمین کا ایک قانون وہ ہے، جس کو قرآن میں قانون دفع کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن کی دو آیتوں میں اس قانون کا ذکر ہوا ہے : وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues