ہبوط آدم
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۴
(2:251)۔ یعنی اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے (نیز دیکھیے سورہ الحج آیت (40)۔ دفع کا مطلب ہے دور کرنا یا ہٹانا (to repel)۔ یعنی اللہ صاحب اقتدار گروہ کو، جب اس میں جمود آ جائے تو بدل کر دوسرا گروہ اس کی جگہ لاتا ہے۔ قانون دفع کا تعلق جزئی طور پر جہاد سے ہے۔ لیکن وہ وسیعی اعتبار سے اللہ رب العالمین کی عمومی سنت ہے۔ اس کے تحت اللہ انسانی تاریخ میں مداخلت (interference) کرتا ہے، اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو غلط رخ پر چلنے سے بچاتا ہے۔ اس طرح انسانی تاریخ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ جہاد تو مسلم حکومت کا اپنے دفاع کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن دفع کی سنت ایک ایسی سنت ہے، جو عمومی اعتبار سے یہ کام انجام دیتی ہے کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کا سفر صحیح سمت میں جاری رہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں تاریخ کی کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
ہبوط آدم
انسان کی پیدائش فطرت کے جس نظام کے تحت ہوئی ہے، اس کے مطابق، انسان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل طور پر متحرک رہے۔ حرکت سے انسان کے اندر ترقی ہوتی ہے، اور ٹھہراؤ سے انسان کے اندر جمود (stagnation) آ جاتا ہے۔ اس بنا پر خالق نے یہ مقدر کر دیا کہ انسان کو ہمیشہ شاک لگتا رہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کا طریقہ مقرر کیا گیا۔
انسان کی تاریخ میں اس نوعیت کا شاک ٹریٹمنٹ سب سے پہلے آدم اور حوا کے ساتھ پیش آیا، جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ آدم کو پیدائش کے بعد پہلے مرحلے میں جنت کے باغوں میں بسایا گیا، وہاں اس کے لیے ایک امتحان (ٹیسٹ) مقرر کیا گیا، اور وہ شجر ممنوعہ (forbidden tree) کا ٹیسٹ تھا۔ انسان اپنے مزاج کی بنا پر عزم (طہ، 20:115) کا ثبوت نہ دے سکا۔ چنانچہ اس کے لیے جنت سے بے دخلی (eviction) کا حکم ہوا۔ جنت اول سے یہ بے دخلی ایک اعتبار سے بطور
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues