رسول اور اصحاب رسول
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۶
سے کشتی پر سوار ہو کر نکلے اور دھیرے دھیرے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ بعد کو انسانوں کا ایک گروہ سمندر پار کر کے امریکا پہنچا، اور نئی دنیا آباد ہوئی۔ قوم نوح کے ساتھ یہ جو معاملہ پیش آیا، وہ ایک اعتبار سے سرزنش کا معاملہ تھا، اور دوسرے اعتبار سے اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کے جمود کو توڑا جائے، اور ان کو زمین کے وسیع تر حصے میں پھیلنے کا موقع دیا جائے۔ محققین نے بتایا ہے کہ کشتی نوح ایسے مقام پر ٹھہری، جہاں ایشیا، یورپ، اور افریقہ ملتے تھے۔ اس طرح قوم نوح کے افراد کو یہ موقع ملا کہ وہ پھیلتے پھیلتے تین براعظموں میں داخل ہو جائیں، اور زمین کے محدود رقبے سے نکل کر زمین کے وسیع تر رقبے میں آباد ہو جائیں۔ قوم نوح کو اس طرح بکھیرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ زمین کے وسیع تر رقبے میں ترقی کے مواقع کو اویل کریں۔ کنگ شپ کا نظام اس دور میں انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کیا۔ کچھ انسانوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے دنیا میں بادشاہت (kingship) کا نظام قائم کر لیا۔ بادشاہت کے نظام نے وسائل پر اپنی اجارہ داری (monopoly) قائم کرلی۔ اس نظام کے تحت انسان کی آزادی بہت محدود ہو گئی، اور انسان کے لیے ترقی کا دروازہ عملاً بند ہو گیا۔ اب خالق کی مرضی یہ ہوئی کہ اس سیاسی اجارہ داری (political monopoly) کو ختم کر کے تمام انسانوں کو یکساں طور پر عمل کا موقع دیا جائے۔ اس کے لیے ایک انقلاب درکار تھا۔ اس انقلاب کو لانے کے لیے ایک تیار ٹیم (prepared team) کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے اللہ رب العالمین نے پیغمبر ابراہیم کو استعمال کیا۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی فیملی کو لے کر عرب کے صحرا میں ذبح عظیم (الصافات، 107:37) کا ثبوت دیا۔ یہ صحرائی پر اس کا لمبا دور تھا، جو تقریباً ڈھائی ہزار سال کے اندر پورا ہوا۔
رسول اور اصحاب رسول
اس منصوبے کے تحت وہ انوکھی ٹیم تیار ہوئی، جو مطلوب انقلاب کے لیے پوری طرح اہل
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues