Al-Risala · September 2020 · page 28

سائنس اور اسلام

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۸

جس چیز کو دلیل کا درجہ دیتے تھے، اس استدلالی زبان میں اللہ تعالی نے اپنے دین کو انبیاء کے ذریعہ مدلل فرمایا۔ تا کہ ہر زمانے کے انسان پر حق کی حجت قائم ہو سکے۔ یہی واقعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر لوگوں کے ساتھ پیش آیا۔ لیکن رسول اللہ کی نبوت قیامت تک کے لیے ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے یہاں یہ انتظام فرمایا، تا کہ بعد کے لوگوں کے ذہن کے مطابق اللہ کا دین مدلل ہو سکے۔ اتمام نور سے مراد یہ ہے کہ ہر زمانے کے انسان کے عقلی تقاضے کے مطابق دین کا مدلل کیا جانا۔ اس اعتبار سے آخری زمانہ غالباً وہ زمانہ ہے جس کو سائنس کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی استدلال کو اعلی استدلال مانا جاتا ہے۔ اس لیے انسان کی نسبت سے اتمام نور یہ ہوگا کہ سائنسی دور کے عقلی تقاضے کے مطابق دین حق کو مدلل کیا جائے۔

یہی وہ بات ہے، جو حدیث رسول میں اس طرح بیان کی گئی ہے: «مَا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنْ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (152)۔ یعنی ہر نبی کو وہ نشانیاں دی گئیں، جن کے مثل پر (ان کے زمانے کے لوگ ایمان رکھتے تھے۔ اور مجھ کو جو چیز دی گئی ہے، وہ وحی ہے، جو اللہ نے میری طرف بھیجا ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ میرے متبعین قیامت کے دن سب سے زیادہ ہوں گے۔ اس کی شرح میں احمد بن محمد القسطلانی نے یہ بات بیان کی ہے: وهو القرآن... فإنه يشتمل على الدعوة والحجة وينتفع به إلى يوم القيامة (ارشاد الساری، جلد 7 صفحہ 444)۔ یعنی مجھے جو دیا گیا، وہ قرآن ہے۔ کیوں کہ وہ دعوت اور حجت پر مشتمل ہے، اور ان سے قیامت تک فائدہ اٹھایا جائے گا۔ فَهِيَ تشاهد بعين العقل (کشف المشکل لابن الجوزی، جلد 3، صفحہ (412)۔ یعنی اس کا مشاہدہ عقل کی آنکھ سے کیا جاتا ہے۔

ایک مثال

پانی زمین پر زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کو قرآن میں اشاراتی طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا یعنی ہم نے آسمان سے برکت والا پانی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page