Al-Risala · September 2020 · page 27

سائنس اور اسلام

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۷

حدیث نمبر 1955)۔ یعنی جس نے انسان کا شکر ادا نہیں کیا، وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔ اگر آدمی کے اندر صحیح سوچ ہو تو ایک چیز کو دیکھ کر وہ پوری انسانی تاریخ کو یاد کرے گا۔ مثلاً آج وہ ایک پہیہ دار گاڑی کو استعمال کرے گا تو وہ سوچے گا کہ اُس انسان کا تاریخ میں کتنا بڑا کنٹری بیوشن ہے کہ جس نے اپنی عقل کو استعمال کر کے پہیہ جیسی چیز کو ایجاد کیا۔ اس کے بعد انسان نے پہیہ دار بیل گاڑی بنائی۔ اس کے بعد غور و فکر کر کے پہیہ دار کشتی (wheel boat) بنائی۔ اس کے بعد مزید غور و فکر کے ذریعہ انسان نے پہیہ دار بائسکل بنائی۔ پھر اس نے پہیہ دار ریل بنائی۔ پھر اس نے پہیہ دار موٹر کار بنائی۔ پھر اس نے پہیہ دار ہوائی جہاز بنایا۔ اسی فہرست میں وہیل چیر (wheelchair) ہے جس نے کمزور انسان کے لیے چلنے کو آسان بنا دیا، وغیرہ۔ یہی معاملہ پوری انسانی تہذیب (human civilization) کا ہے۔

آدمی اگر اس طرح سوچے تو پورا انسانی قافلہ اس کو اپنا محسن نظر آئے گا۔ اس کو محسوس ہوگا کہ پوری انسانیت ساری تاریخ میں سرگرم رہی ہے تا کہ وہ اُن تمام چیزوں کو بنائے جس نے آج میری زندگی کو بہت آسان کر دیا ہے۔ یہ سوچ اگر گہرائی کے ساتھ آدمی کے اندر آ جائے تو وہ ایک طرف خالق کی عظمت میں سرشار ہو جائے گا۔ وہ سوچے گا کہ خالق کتنا عظیم ہے، جس نے میرے لیے یہ تمام چیزیں تخلیق کیں۔ اسی کے ساتھ وہ انسانوں کے بارے میں بہت زیادہ اعتراف (شکر) کرنے والا بن جائے گا، جس نے تخلیق کو تہذیب میں کنورٹ کیا۔ یہ سوچ آدمی کے لیے شکر خداوندی کا سر چشمہ ہے، اور اسی کے ساتھ محبت انسانی کا سر چشمہ بھی۔

سائنس اور اسلام

قرآن میں ایک دعوتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يُرِيدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (61:8)۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منھ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی اس آیت میں نور (روشنی) سے مراد حق کے دلائل ہیں۔ یعنی ہر زمانے کے انسان

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page