Al-Risala · September 2020 · page 32

حفاظت کا راز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۲

روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: بیشک تم لوگ امت مرحومہ میں سے ہو۔ پس بے صبری نہ کرنا، اور نہ سرکشی کرنا۔

(2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، لَا عَذَابَ عَلَيْهَا إِلَّا مَا عَذَّبْتَ هِيَ أَنْفُسَهَا ، قَالَ : قُلْتُ وَكَيْفَ تُعَذِّبُ أَنْفُسَهَا ؟ قَالَ : أَمَّا كَانَ يَوْمَ النَّهْرِ عَذَابٌ ؟ أَمَّا كَانَ يَوْمَ الْجَمَلِ عَذَابٌ ؟ أَمَّا كَانَ يَوْمَ صِفِّينَ عَذَابٌ؟ (مسند ابی یعلی، حدیث نمبر (6204)۔ یعنی ابوہریرہ نے کہا : بیشک یہ امت، امت مرحومہ ہے۔ اس پر کوئی عذاب نہیں ہے، سوائے اس کے کہ یہ خود ہی اپنے کو عذاب دے۔ راوی نے پوچھا، اپنے آپ کو کیسے عذاب دیا جاتا ہے۔ ابو ہریرہ نے کہا : کیا یوم النہر عذاب نہیں تھا، کیا یوم الجمل عذاب نہیں تھا، کیا یوم صفین عذاب نہیں تھا۔

امت کے بارے میں نصرت الہی کی ایک اور روایت میں اس طرح آئی ہے: (ترجمہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے روئے زمین کو سمیٹا، چنانچہ میں نے روئے زمین کو مشرق سے لے کر مغرب تک دیکھا اور یقیناً میری امت کا دائرہ روئے زمین میں وہاں تک پہنچے گا، جو سمیٹ کر مجھ کو دکھایا گیا ہے، اور مجھ کو سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے ہیں، اس وقت میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ اللہ میری امت کے لوگوں کو عام قحط میں نہ مارے، اور یہ کہ میری امت پر اپنے لوگوں کے سوا کسی اور کو مسلط نہ کرے۔

میرے رب نے فرمایا: اے محمد، جب میں کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ بدلا نہیں جاسکتا، پس تمہاری امت کے لیے میں نے تم کو یہ عطا کیا کہ تمہاری امت کو نہ تو قحط میں ہلاک کروں گا اور نہ خود ان کے علاوہ کوئی اور دشمن ان پر مسلط کروں گا، جو ان کی اجتماعیت پر قبضہ کرلے، اگر چہ ان کے خلاف تمام روئے زمین کے لوگ جمع ہو جائیں ، الا یہ کہ تمھاری امت ہی کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں اور ایک دوسرے کو قید و بند میں ڈالیں (حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا، وَيَسْبِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا) صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2889۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page