Al-Risala · September 2020 · page 31

حفاظت کا راز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۱

محمدی ایک محفوظ امت ہے۔ حفاظت کا یہ معاملہ کسی فضیلت کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے تخلیقی منصوبے کی بنا پر ہے۔ یہ اس لیے ہے تا کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد بھی قیامت تک انسان کو ربانی رہنمائی ملتی رہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اگر اسلام محفوظ دین نہ رہے، تو انسان کو محفوظ ہدایت نہیں ملے گی ۔ قرآن اگر محفوظ کتاب نہ رہے، تو انسان کے لیے اس دنیا میں مستند رہنمائی کا وجود نہ ہوگا۔ اگر پیغمبر محفوظ پیغمبر نہ رہے، تو اس کے لیے اپنی دعوتی ذمے داری کو درست طور پر انجام دینا ممکن نہ رہے۔ اسی طرح امت محمدی ایک محفوظ امت ہے۔ اگر یہ امت محفوظ نہ ہو، تو قیامت تک دعوتی ذمے داری کو درست طور پر انجام دینا اس کے لیے ممکن نہ رہے گا۔

حفاظت کا راز

قرآن کی سورہ المائدہ (5:67) میں فرمایا ہے کہ عصمت الناس (لوگوں سے حفاظت) کا راز تبلیغ ما انزل اللہ (اللہ کی نازل کردہ باتوں کی تبلیغ میں ہے۔ یہ عصمت (حفاظت ) براہ راست طور پر پیغمبر سے متعلق ہے، لیکن بالواسطہ طور پر امت محمدی بھی اس خدائی ضمانت میں شامل ہے۔ اس لیے کہ پیغمبر کی حیثیت خاتم النبیین کی ہے۔ امت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ پیغمبر کی نیابت میں قیامت تک آنے والے لوگوں کو اللہ رب العالمين کا پیغام پہنچاتی رہے۔ اس لیے اللہ کی منصوبہ بندی کا یہ تقاضا ہوا کہ امت محمدی کو بھی حفاظت کی اس ضمانت میں شامل رکھا جائے، تاکہ دعوت الی اللہ کا کام رک کے بغیر قیامت تک جاری رہے۔

یہ حفاظت دنیا کے اعتبار سے ہے، آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس حقیقت کو حدیث رسول میں امت مرحومہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مرحومہ کا مطلب ہے محفوظ، یعنی حفاظت کی ہوئی امت۔ اس بات کا ذکر مختلف روایتوں میں کیا گیا ہے، ان میں سے تین روایتوں کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ مِنْ أُمَّةٍ مَرْحُومَةٍ، فَلَا تُنَزَّعُوا ، وَلَا تَطْغَوْا(مساوی (مساوی الاخلاق للخرائطی، حدیث نمبر (571) - ابو ہریرہ سے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page