تبلیغِ رسالت کا نظام
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۷
نا کامیوں کو بھلا یا جائے، اور مستقبل کے امکانات کو لے کر اپنے عمل کا منصوبہ بنایا جائے۔ حضرت یوسف کی مثال قرآن میں پیغمبر یوسف کے واقعہ کو احسن القصص (best story) کا ٹائٹل دیا گیا ہے (یوسف، 12:3)۔ احسن القصص کا مطلب ہے بہترین طریقہ کار (best method)۔ اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں حضرت یوسف کے ذریعہ ایک عملی مثال قائم کی، اور اس طرح ہر زمانے کے اہل ایمان کو یہ ہدایت دی کہ تم اپنے حالات کے اعتبار سے اس کامیاب طریقہ کار کو اختیار کرو۔ پیغمبر اسلام کو قرآن میں جو حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک حکمت وہ ہے جو پیغمبر یوسف کے حوالے سے قرآن میں آئی ہے۔ اس طریقہ کار کا خلاصہ تھا اٹھاریٹی کے ساتھ ٹکراؤ نہ کرنا، اور موجود مواقع کو پرامن انداز میں استعمال کرنا۔
پیغمبر یوسف کنعان میں پیدا ہوئے، جو اب الخلیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ بقول اغلب 1910 تا 1800 ق م کا ہے۔ ان کے ساتھ کچھ خاندانی اسباب پیدا ہوئے، اور وہ فلسطین سے نکل کر مصر پہنچ گئے۔ اس زمانے کا مصر کا بادشاہ ان سے متاثر ہوا، اور اس نے آپ کو اپنی سلطنت میں پورے ملک کی زراعت کا انچارج بنا دیا۔
پیغمبر یوسف ایک گاؤں سے نکل کر مصر پہنچے۔ ان کو یہ غیر معمولی کامیابی کیسے حاصل ہوئی۔ اس کا راز یہ تھا کہ انھوں نے مصر میں اس وقت کے بادشاہ سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ ایسا طریقہ اختیار کیا، جس کو پولیٹیکل ایڈجسٹمنٹ کہا جاسکتا ہے۔ وہ پولیٹیکل ایڈ جسٹمنٹ یہ تھا کہ پیغمبر یوسف اس پر راضی ہو گئے کہ حکومت کے تخت پر مشرک بادشاہ بدستور قائم رہے، لیکن ملک کے خزائن (زرعی نظام) پیغمبر یوسف کے ہاتھ میں ہو۔
یہ قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں آیا ہے۔ بائبل (پیدائش ،41:40) میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہے— سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا :
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues