Al-Risala · September 2020 · page 38

تبلیغِ رسالت کا نظام

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۸

پیغیمر یوسف کے قصے کو قرآن میں احسن القصص یعنی بہترین طریقہ کار (best method) قرار دیا گیا ہے۔ یہ بہترین طریقہ کار کیا تھا، جس نے پیغمبر یوسف کو قدیم مصر میں اعلیٰ مواقع عطا کر دیے ۔ وہ طریق کار ایک لفظ میں یہ تھا۔ سیاسی اقتدار کے ساتھ پولیٹکل اپوزیشن کے بجائے پولیٹکل ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرنا۔ یہ طریقہ جو پیغمبر یوسف نے اختیار کیا، وہ قدیم زمانے میں بھی سب سے زیادہ کامیاب طریقہ تھا، اور موجودہ زمانے میں بھی وہ سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں یہ طریق کار مصر کے ایک بادشاہ کے ذاتی ذوق کی بنا پر ممکن ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں انسانی تاریخ ایک نئے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اب جدید دور کے مسلمہ اصول (accepted norm) کے تحت یہ ممکن ہو گیا ہے کہ احسن القصص کا اعادہ زیادہ وسیع پیمانے پر کیا جائے، اور دعوت کو احسن القصص کے اصول پر منظم کر کے عالمی کامیابی حاصل کی جائے۔ رسول اللہ کا طریق کار پرامن منصوبہ بندی کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کا مشن اللہ کی توحید کا مشن تھا۔ مکہ کی عملی صورت حال یہ تھی کہ پیغمبر ابراہیم کے بنائے ہوئے مقدس کعبہ کو بعد کے لوگوں نے بت پرستی کا مرکز بنا دیا تھا۔ خود کعبہ کی عمارت میں تقریباً 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام اپنے ابتدائی دور میں تیرہ سال مکہ میں رہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان تیرہ سالوں میں آپ نے کبھی عملی طور پر اس پر احتجاج نہیں کیا کہ تم لوگوں نے پیغمبر ابراہیم کے کعبہ کو بتوں کا مرکز کیوں بنا دیا، اس کو یہاں سے ہٹاؤ، اور دوبارہ اس کو کعبہ کے بانی کی بنیاد پر قائم کرو۔

پیغمبر اسلام کا یہ عمل ایک غیر معمولی عمل تھا۔ یعنی کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا توحید کا مشن جاری کرنا۔ مگر حدیث کے پورے ذخیرہ میں ایسا کوئی حوالہ موجود نہیں کہ اس کا سبب کیا تھا۔ گویا کہ یہ واقعہ ابھی تک بلا توجیہہ (unexplained) پڑا ہوا ہے۔ یقیناً اس واقعہ کا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page