یہود کی مثال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۰
صرف نقصان اٹھایا۔ جنگ کا طریقہ ان کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو ثابت ہوا۔ اس تجربے کے بعد ان قوموں کے قائدین نے دوبارہ غور کیا۔ انھوں نے پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا۔ اس کے بعد حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا، جس کوری پلاننگ کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا، اور مکمل معنوں میں امن کا طریقہ اختیار کر لیا۔ برطانیہ نے یہ کیا کہ اپنی عظیم سلطنت (empire) کو خود اپنے اختیار سے ختم کر دیا، اور اپنی سلطنت کو صرف برطانیہ تک محدود کر لیا۔ فرانس نے اپنی افریقی مقبوضات کو یک طرفہ طور پر چھوڑ دیا۔ جرمنی نے یہ کیا کہ ایسٹ جرمنی کو چھوڑ کر ویسٹ جرمنی کی تعمیر وترقی میں لگ گیا۔ جاپان نے مکمل طور پر جنگ اور تشدد کا طریقہ چھوڑ دیا، اور جاپان کی پرامن ترقی میں مصروف ہوگئے، وغیرہ۔
یہود کی مثال
قرآن میں یہود کی تاریخ کا ایک نصیحت آمیز واقعہ سورۃ الاسراء کی ابتدائی چند آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹادی اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا ۔ اگر تم اچھا کام کرو گے تو تم اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر تم برا کام کرو گے تب بھی اپنے لیے برا کرو گے ۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اور بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح وہ اس میں پہلی بار گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کر دیں (7: 4-17)۔
قرآن کی ان آیتوں میں یہود کے بگاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ یہود کے اندر ہم نے مصلحین پیدا کیے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ان کے اندر ہم نے اپنے زور آور بندے بھیجے، جنھوں نے ان کو تباہ و برباد کیا۔ یہود (بنی اسرائیل) کی تاریخ میں دو بار یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کو
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues