تبلیغِ رسالت کا نظام
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۹
کوئی معقول سبب موجود ہوگا۔ جب وہ کتابوں میں لکھا ہوا موجود نہیں ہے، تو ہمیں چاہیے ہم اس کو دریافت کریں۔ اس دریافت کے ذریعہ جو سبب معلوم ہو، اس کو مبنی براستنباط سنت کا درجہ دیا جائے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) کی سنت تھی ۔ یعنی پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ کعبہ میں بتوں کی موجودگی بلاشبہ ایک غیر مطلوب فعل ہے۔ لیکن ان بتوں کا معاملہ یہ تھا کہ وہ عرب میں پھیلے ہوئے تمام قبائل کے بت تھے۔ ان بتوں کی وجہ سے عرب کے تمام قبائل کے لوگ روزانہ مکہ آتے، اور اپنے بتوں کی زیارت کرتے۔ اس بنا پر کعبہ سارے عرب کے لوگوں کا اجتماع گاہ بن گیا تھا۔ یہ اجتماع عملاً پیغمبر اسلام کے لیے آڈینْس (audience) کی حیثیت رکھتا تھا۔ گویا کہ ان بتوں کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ مشرکانہ کلچر کی علامت تھے۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ ان کی وجہ سے پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل رہا تھا کہ آپ سارے عرب کا سفر کیے بغیر خود مکہ میں عرب کے تمام قبائل کو اپنا موحدانہ پیغام پہنچا سکیں ۔ چنانچہ آپ نے اس معاملے میں ڈی لنکنگ پالیسی اختیار کی۔ یعنی کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کر کے آپ نے زائرین کو لیا، اور ان کو خدا کا پیغام براہ راست طور پر پہنچانا شروع کر دیا۔
اس اصول کو پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اِخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو طریقوں میں سے ایک طریقہ کو اختیار کرنا ہوتا آپ ہمیشہ ان میں سے آسان طریقہ کا انتخاب کرتے تھے۔ اس اصول کی بنیاد پر اگر فارمولا بنایا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ مسئلے کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو:
Ignore the problem, avail the opportunity سیکولر دنیا کی مثال جدید تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ جو قو میں فرسٹ ورلڈ وار (1918-1914) اور سکینڈ ورلڈ وار (1945-1939) میں شامل تھیں، تجربے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ ان جنگوں میں انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues