ڈی لُنکنگ کا اصول
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۲
اب بھی قبول کر رہے ہیں۔ مثلاً آسٹریا کے لیوپولڈ اسد (1992-1900)، اور امریکا کی مارگریٹ جمیلہ (2012-1934)۔ اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہود کے اوپر قرآن کی یہ آیت (41:33-34) منطق (apply) نہیں ہوتی ہے۔
ڈی لُنکنگ کا اصول
خلیفہ دوم عمر فاروق کے زمانے کا واقعہ ہے۔ مسلمانوں کا مقابلہ ایرانی ایمپائر سے پیش آیا۔ مسلمان جب پیش قدمی کرنے لگے تو ایرانی فوج کے سپہ سالار رستم نے مسلم فوج کے سردار سعد بن وقاص کے پاس پیغام بھیجا کہ تم اپنا نما ئندہ گفت و شنید کے لیے بھیجو۔ وہ دربار میں پہنچے تو رستم نے اُن سے کہا کہ تم لوگ کیوں ہمارے ملک میں آئے ہو۔ اس سوال کے جواب میں ربعی بن عامر نے کہا: اللَّهَ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ (البداية والنهاية، جلد 7، صفحہ (39)۔ یعنی اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تا کہ جو چاہے، اُس کو ہم انسان کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت میں لے آئیں۔ اس واقعے سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے اور وہ ہے فرقان کا اصول، یعنی دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا۔ صحابی کے قول کا مطلب یہ تھا کہ تم ہم کو حملہ آور نہ سمجھو، ہم دراصل تہذیب توحید کے نقیب (harbinger) بن کر آئے ہیں۔ ہم تمھارے لیے رحمت ہیں، نہ کہ کوئی مسئلہ۔
یہی معاملہ دورِ جدید کا ہے۔ دورِ جدید اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک موافق اسلام دور ہے، نہ کہ مخالف اسلام دور۔ دورِ جدید کو مخالف اسلام دور بتانا، صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دورِ جدید کی الف ب بھی نہیں جانتا۔ ایسا آدمی دراصل مسلم قومی ذہن کے تحت سوچ رہا ہے اور غلط فہمی کی بنا پر اس کو وہ اسلام کے اوپر منطبق کر رہا ہے۔
دورِ جدید کیا ہے۔ دورِ جدید عقلی طرز فکر (rational thinking) کا نام ہے، اور عقلی طرز فکر مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید مذہبی آزادی کا دور ہے، اور مذہبی آزادی مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید کمیونی کیشن کا دور ہے، اور کمیونی کیشن مکمل طور پر اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues