Al-Risala · September 2020 · page 43

ڈی لُنکنگ کا اصول

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۳

کے لیے مفید ہے۔ دورِ جدید پرنٹ میڈ اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا یا مکمل طور پر اسلام کے لیے مفید ہے، وغیرہ۔ ایسی حالت میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ دورِ جدید کے موافق اسلام پہلوؤں کو دریافت کر کے اس کو اسلام کے حق میں استعمال کریں۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب نو آبادیاتی غلبہ کا دور آیا تو مسلم دنیا کے تمام رہنما، علما اور غیر علما دونوں اُن سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس لڑائی میں انھوں نے غیر معمولی قربانیاں پیش کیں، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ مسلم رہنما اگر صحابی رسول کی اس مثال سے سبق لیتے اور اس کو موجودہ صورت حال پر منطبق کرتے اور وہ کہتے کہ یہ نو آبادیاتی قومیں سادہ طور پر صرف حملہ آور نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger of a new civilization) ہیں ۔ لہٰذا ہم کو چاہیے کہ ہم اُن سے لڑنے کے بجائے، اُن سے نئے ترقیاتی ذرائع کو سیکھیں۔ ہمارے رہنما اگر اس طرح ایک پہلو کو دوسرے پہلو سے الگ کر کے دیکھتے اور اس کے مطابق ، وہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرتے تو آج امتِ مسلمہ کی تاریخ مختلف ہوتی۔ آج مسلمان شکر کرنے والا گروہ ہوتے، جب کہ آج مسلمان صرف شکایت اور احتجاج کرنے والا گروہ بنے ہوئے ہیں۔ دورِ جنگ کا خاتمہ دنیا میں قدیم زمانے سے قوموں کے درمیان جنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ اس نامتناہی سلسلۂ جنگ کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں جنگ اور صلح کی کوئی ایسی معلوم حد موجود نہ تھی، جو قوموں کے درمیان تسلیم شدہ ہو۔ اسلام نے صلح حدیبیہ کے بعد اس دورِ صلح کا آغاز کیا۔ اس کے بعد دنیا میں بین الاقوامی سطح پر ایک تاریخی عمل (historical process) کا آغاز ہوا۔ اس عمل کا نقطۂ انتہا 1945 تھا، جب کہ تمام قوموں کے اتفاق رائے سے اقوام متحدہ (UN) کا قیام عمل میں آیا۔ اقوام متحدہ کے قیام سے بین الاقوامی طور پر ایک مشترک پلیٹ فارم وجود میں آیا۔ جہاں تمام قوموں کے ذمہ دار نمائندے اکٹھا ہوں، اور با اختیار انداز میں اجتماعی فیصلے کریں۔ اس اجتماعی پلیٹ فارم کے ذریعے اس سلسلے میں پہلا اہم کام یہ ہوا کہ قوموں کی جغرافی حدیں متعین ہوئیں ۔ یہ حد

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page