امن کی اشاعت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۵
ہے کہ ابتدائی تخلیق کے مطابق انسانی دنیا میں فطری حالت قائم تھی، اور فطری حالت امن کی حالت ہے۔ لیکن بعد کو ایسا ہوا کہ دنیا میں ڈسپاٹک کنگ (despotic king) کا زمانہ آیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ حالت فطری کو ختم کر کے اس کی جگہ غیر فطری حالت قائم کردی، یعنی جبر و تشدد کی حالت۔ یہ حالت اللہ کو منظور نہ تھی، کیوں کہ یہ حالت اللہ کے منصوبہ تخلیق کے خلاف تھی ۔ چنانچہ اللہ نے اپنے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ جن لوگوں نے انسانی دنیا میں خود ساختہ طور پر تشدد کی حالت قائم کر رکھی ہے، اس کو بزور طاقت ختم کردو، تا کہ دوبارہ دنیا میں حالت فطری قائم ہوجائے۔ قدیم زمانے میں مذہبی تشدد (religious persecution) اسی بنا پر قائم تھا۔ چنانچہ اصحابِ رسول کو اپنے زمانے کے اربابِ اقتدار سے جنگ کرنا پڑا۔ یہی وہ تاریخی انقلاب ہے، جس کی طرف بائبل میں ان الفاظ اشارہ کیا گیا ہے : اس نے نگاہ کی، اور قومیں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے، قدیم ٹیلے جھک گئے (حبقوق، 3:6)۔ یہ واقعہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے وقوع پذیر ہوا۔ اصحابِ رسول نے اس وقت کے جبری نظام کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نئے دور کا پرامن شروع ہو گیا، یعنی جنگ کے دور کا خاتمہ اور امن کے دور کا آغاز۔ تاریخ میں کوئی بڑا واقعہ اچانک نہیں ہوتا، بلکہ وہ تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں ابتدائی حالت سے شروع ہو کر تکمیل کی حالت تک پہنچتا ہے۔ تاریخ میں اس دور امن کا آغاز اہل اسلام نے کیا تھا۔ بعد کے زمانے میں آزادی اور جمہوریت (freedom and democracy) کا جو دور آیا، وہ اسی آغاز کا منتہا (culmination) ہے۔ اکیسویں صدی میں اب ہم اسی دور امن میں جی رہے ہیں۔ اب قرآن کے الفاظ میں دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو چکا ہے۔ یعنی یہ ممکن ہوگیا ہے کہ پرامن طریق کار کو استعمال کرتے ہوئے ، اپنے مقصد کو نارمل کورس (normal course) میں حاصل کر لیا جائے ۔
امن کی اشاعت
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ السَّلَامَ اِسْمٌ مِنْ اَسْمَاءِ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues