ڈی لُنکنگ کا اصول
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۴
نیشن اسٹیٹ (nation state) تھی۔ اس سے یہ طے ہوا کہ ہر قوم کی ایک معلوم حد ہے، اور کسی قوم کو یہ حق نہیں کہ وہ اس معلوم حد کی خلاف ورزی کرے۔
اسی طرح قوموں کے اتفاق رائے سے یہ اصول طے ہوا کہ باہمی اختلافات کا تصفیہ اقوام متحدہ کے تحت امن کی میز پر ہوگا، نہ کہ جنگ کے میدان میں۔ اس طرح دنیا میں پہلی بار یہ ہوا کہ تقریباً ایک سو قوموں کی جغرافی حدیں مقرر ہوگئیں، اور اس طرح جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی ایک آیت میں یہ جو الفاظ آئے ہیں: حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا (47:4)۔ یعنی یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے۔ اس میں اسی حتی (حد) کی پیشین گوئی تھی، جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں پوری ہوئی۔ قرآن کی یہ آیت کسی وقتی معاملے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ ایک مستقل تصفیے کے لیے ہے، جو اقوام متحدہ کے ذریعے بین اقوامی اسٹیج پر طے ہوا۔ اس اس آیت میں ایک بین اقوامی پر اس کی تکمیل کا اعلان ہے، نہ کہ ایک وقتی اور محدود معاملے۔ یہ آیت ایک تاریخی تکمیل کو بتاتی ہے، جس کے بعد پر امن دعوت کے مواقع آخری طور پر کھل گئے۔
اسلام کے ذریعے ایک عالمی عمل جاری ہوا، جس کی تکمیل جدید تہذیب کی صورت میں ہوئی، اور رسول اللہ کی پیشین گوئی پوری ہوئی کہ اللہ اس دین کی تائید سیکولر قوموں کے ذریعے کرے گا۔ دور امن کی طرف قرآن میں اصحاب رسول کو ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (2:193)۔ یعنی اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (سب) اللہ کا ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اس کے بعد جارحیت نہیں ہے، مگر ظالموں پر۔
قرآن کی اس آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں کہا گیا ہے کہ جنگ کرو یہاں تک کہ فتنے کا خاتمہ ہوجائے، دوسرے حصے کے الفاظ یہ ہیں کہ "دین اللہ کا ہوجائے"۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مطلوب کے لیے لڑنا ہوگا، اور دوسرا مطلوب اپنے آپ حاصل ہو جائے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues