امن کی اشاعت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۷
تھا کہ زندگی کی قائم شدہ روایات کو باقی رکھنے کے لیے تربیت یافتہ افراد مہیا کرنا۔ مثلاً مذہب کے رسوم کو درست طور پر ادا کرنے کے لیے تربیت یافتہ افراد کو مہیا کرنا ہے۔ موجودہ زمانے میں تعلیم کا مقصد یہ ہو گیا ہے کہ ریسرچ و تحقیق کے ذریعے زندگی کے نئے راستے تلاش کرنا، اور تہذیب کی ترقی کے سفر کو مسلسل طور پر آگے بڑھانا ہے۔
موجودہ زمانے میں تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ اپنے آپ کو وقت کے تقاضے کے مطابق تیار کیا جائے۔ تاکہ انسان ترقی کی دوڑ میں اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ قدیم زمانے میں تعلیم عملاً ایک جامد ڈسپلن کی حیثیت رکھتی تھی۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک تخلیق سرگرمی (creative activity) کا نام ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا تعلق کچھ محدود لوگوں سے ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں تعلیم کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے ہو گیا ہے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا نشانہ یہ نہیں ہوتا تھا کہ بنی نئی چیزوں کو دریافت کیا جائے، تا کہ تہذیب کے ارتقا میں ان کا استعمال ہو۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک انقلابی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس کو ایک مثال کے ذریعے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ قدیم زمانے میں تعلیم گویا ایک نئی بنائی عمارت کا نام ہوتا تھا، جس کی وقت وقت پر صفائی کر دی جائے اور وائٹ واش کر دیا جائے۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانے میں تعلیم یہ ہے کہ نئی نئی دریافتوں کے مطابق نئی نئی عمارت کھڑی کی جائے۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا مقصد زندگی کے روایتی ڈھانچہ کو برقرار رکھنے کا نام ہوتا تھا۔ قدیم زمانے میں تعلیم کا اصل مقصد یہ تھا کہ سماج کے اقدار (values)، آداب، تہذیب، وغیرہ کو اگلی نسل میں منتقل کرنا، تا کہ سماجی روایت جاری رہے۔ موجودہ زمانے میں تعلیم ایک ترقی پذیر عمل کا نام ہے، جو بہتے ہوئے دریا کی مانند آگے بڑھتا ہے، اور ترقی کے سفر میں بنیادی رول ادا کرتا ہے۔ قدیم دور میں اپنی روایت سے نکل کر سوچنا نادرست سمجھا جاتا تھا، خواہ وہ توہمات پر مبنی کیوں نہ ہو۔ جو ایسا کرتا اس کا بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ اس پر ظلم کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس، جدید دور میں روایت شکنی سب سے بڑی خوبی کی بات ہے۔ یہ انسان کو موقع دیتی ہے کہ انسان ڈی کنڈیشنڈ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues