Al-Risala · September 2020 · page 48

تبیینِ حق کا دور

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۸

مائنڈ کے ساتھ سوچے، اور میرٹ (merit) کی بنیاد پر کسی چیز کو رد یا قبول کرے۔ شیطان کا چیلنج انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم دور میں انسانوں کی بڑی تعداد کو شیطان نے یہ سکھایا کہ مخلوق میں بھی خدائی (divinity) ہوتی ہے۔ چنانچہ بیشتر انسان مخلوق کے پرستار بن گئے۔ سائنس دانوں اس روایتی کنڈیشننگ کا توڑا، انھوں نے پچھلے تقریباً چار سو سال کی تحقیق کے بعد بتایا کہ مخلوقات میں خدائی (divinity) نہیں۔ سائنس دانوں کی ریسرچ سے یہ ثابت ہو گیا کہ خالق الگ ہے، اور مخلوق الگ۔ مغرب کے سائنس داں حدیث کے الفاظ میں مؤیدین دین تھے (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔ یہ وہ لوگ تھے، جن کے ذریعے دریافت شدہ علم نے دین کی تائید کا کام انجام دیا ہے۔ لیکن شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈال دیا کہ اہل مغرب تمھارے دشمن ہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیلنج تھا، جو شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو ان الفاظ میں دیا تھا: وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (7:17) ۔ یعنی تو بیشتر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔ چنانچہ مغرب سے دشمنی کی بنا پر مسلمان اس اہم چیز سے دور ہو گئے، جس کو سائنٹفک ڈیٹا کہا جاتا ہے۔ یعنی ہمارے علما نے اہل مغرب سے دشمنی کی بنا پر ان کی زبان اور ان کے ذریعے دریافت شدہ سائنس کو نہیں پڑھا، اس بنا پر وہ جدید سائنسی دریافت سے بے خبر ہو گئے۔ اس طرح مسلمان ان تمام کائناتی نشانیوں سے دور ہو گئے، جو اللہ رب العالمین کے وجود کا علمی ثبوت فراہم کرنے والے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہوا کہ وہ اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے نہ بن سکے۔ وہ لوگ اگرچہ اللہ کے منکر تو نہیں بنے، لیکن اللہ ان کی زندگی کا ایک رسمی ضمیمہ بن کر رہ گیا۔

تبیینِ حق کا دور

حدیث میں ایک دعوتی پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے : لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ معاملہ وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔ اس پیشین گوئی کو لازماً پورا ہونا تھا۔ اس پیشین گوئی کی تکمیل اہل ایمان کے ذریعے ہوگی۔ اب

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page