Al-Risala · September 2020 · page 50

عصری اسلوب میں دعوت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۵۰

کے لیے ان کے اپنے مائنڈ سیٹ کے اعتبار سے قابل فہم (understandable) بنادے۔ خلاصہ کلام قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ اول دن سے یہ مطلوب تھا کہ قرآن عالمی سطح پر انسانوں کے درمیان پہنچے۔ اس کام کی کچھ شرطیں تھیں، وہ شرطیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پوری ہو چکی ہیں۔ اب صرف یہ کام ہے کہ کچھ لوگ اٹھیں، اور قرآن کو عالمی سطح پر لوگوں تک پہنچا دیں۔ اللہ کی توفیق سے پہلا کام یہ ہوا کہ قرآن کے متن کو امت نے پوری طرح محفوظ کر دیا۔ قرآن کے متن کو اس طرح محفوظ کر دیا گیا کہ اب اس کے مستند ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اسی کے ساتھ وہ تمام اسباب مکمل طور پر فراہم کر دیے گئے، جوان سب کے لیے ضروری تھے۔ مثلاً (1) پرنٹنگ پریس کا وجود میں آنا۔ (2) عالمی کمیونی کیشن، اس کے تحت قرآن تمام لوگوں کے لیے قابل حصول ہو گیا۔ (3) انٹر نیشنل زبان، یعنی انگریزی زبان کا وجود میں آنا۔ (4) مذہبی تعصب کا خاتمہ۔ (5) علمی انفجار (knowledge explosion)۔ (6) عالمی سطح پر نقل و حمل کی آسانی۔ (7) اسپرٹ آف انکوائری۔ (8) مذہبی افہام و تفہیم (religious understanding) کا کھلا ماحول۔ (9) حاملین قرآن کے پاس وسائل کی مکمل موجودگی، مثلاً تیل اور گیس کے ذخائر کا ہونا۔ (10) امن کو خیر اعلیٰ کی حیثیت دینا۔ (11) بین مذاہب تعلقات پر زور۔ (12) اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے مذہبی اشاعت کی کامل آزادی کا معاہدہ۔ (13) سائنسی تحقیقات کے ذریعے آفاق وانفس کی نشانیوں کا ظاہر ہونا۔ (14) ماڈرن انسان کسی بات کو اس وقت قبول کرتا ہے، جب کہ بات ریزن کو اپیل کرتی ہو، وغیرہ۔

یہ تمام ظاہرے دعوت الی اللہ کے حق میں ہیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ قرآن کی اشاعت کا کام بھر پور طور پر انجام دے دیا جائے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل اسی مقصد کے حصول کے لیے قائم کیا گیا ہے، یعنی تمام انسانوں کو خدا کے پیغام سے باخبر کرنا۔ اس کے ذریعے یہی کام انجام دیا جارہا ہے۔ دعا ہے کہ یہ کام اپنی آخری منزل تک پہنچ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page