Al-Risala · September 2020 · page 49

عصری اسلوب میں دعوت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۹

آخر وقت آ گیا ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو جانیں، اور اس کے لیے ضروری پلاننگ کریں۔ اگر اہل ایمان کا ایک گروہ اس کام کے لیے اٹھے، تو اللہ رب العالمین کی تائید ان پر ٹوٹ پڑے گی، اور فرشتے ہر طرف ان کی مدد کے لیے کھڑے ہو جائیں گے، اور عالمی دعوت کا یہ کام اس طرح انجام پائے گا، جیسے کہ اس سے زیادہ آسان کوئی کام نہیں تھا۔ اکیسویں صدی میں امت محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے، جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیین حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباً اسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔

عصری اسلوب میں دعوت

اس وقت جو رول اہل ایمان کو انجام دینا ہے، وہ ہے وقت کے مطابق اعلیٰ ذہنی مستویٰ (higher intellectual level) پر دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا۔ یہ کام سائنسی دریافتوں کے ذریعہ بالقوۃ طور پر (potentially) انجام پا چکا ہے۔ اب اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس بالقوۃ کو بالفعل (actual) بنائیں ۔ وہ فطرت (nature) میں دریافت کردہ حقیقتوں کو ربانی شہادت کے طور پر دنیا کے سامنے لائیں۔

اس کام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ خدا کے ہدایت نامہ قرآن کو دنیا کی ہر زبان میں معیاری ترجمہ کر کے اس کو تمام قوموں تک پہنچانا، تا کہ دنیا یہ جانے کہ جن حقیقتوں کو موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیق کے طور پر انسان نے دریافت کیا ہے، وہ حقیقتیں پیشگی طور پر قرآن میں "آیات" کی زبان میں بتا دی گئی تھیں۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ کلمۂ اسلام ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ اس کا مطلب ہے قرآن کا گلوبل ڈسٹری بیوشن ، یعنی قرآن کو ہر قوم کی قابل فہم زبان میں پہنچا دینا۔ اس کام میں اصل اہمیت قرآن کے اشاعت کی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ قرآن کی ضروری تشریح کرنا بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مددگار لٹریچر (supporting literature) بھی ضروری ہے، جو قرآن کو لوگوں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page