پیرویٔ اسلام، تنفیذِ اسلام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۷
کو مکمل اعتبار سے زمین پر نافذ کرے ۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ جو دین مبنی بر فرد دین تھا، اس کو مبنی بر نظام (system-based) بنا دیا۔
مگر یہ سادہ بات نہ تھی ۔ جب بھی آپ دین کو پیروی کے بجائے تنفیذ کا موضوع بنائیں گے تو فوراً تشدد شروع ہو جائے گا۔ کیوں کہ تنفیذ (enforcement) کے لیے حکومتی ادارے کا ہونا ضروری ہے۔ یہاں پہلے سے کچھ لوگ ہوں گے جو تنفیذ کے اداروں پر قابض ہوں گے۔ اب آپ کا ذہن یہ کہے گا کہ مجھے ان قابض افراد کو ہٹانا ہے، ان کو قوتِ نافذہ کے مقام سے ہٹائے بغیر میں اپنی پسند کا نظام نافذ نہیں کر سکتا۔ یہاں سے حکومت کے خلاف نزاع شروع ہوگا۔ اسلام کی سیاسی تعبیر کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے لیے دنیا اپنے اور غیر (we and they) میں تقسیم ہوگئی۔ اس طرح امت کے اندر دوسروں کو اپنا دشمن سمجھنے کا مزاج پیدا ہوا۔ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔
اسی طرح اسلام کی سیاسی تعبیر ایک نظریہ ہے، لیکن اس نظریے کی بنیاد پر جو مائنڈ سٹ (mindset) بنتا ہے، وہ عملاً ایک متشددانہ مائنڈ سٹ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مائنڈ سٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف جنگ شروع ہوگئی، اور جب جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو امت کے اندر نفرت کا ایک پورا جنگل آگیا۔ فطری طور پر وہ اپنی نفرت میں اتنے اندھے ہوگئے کہ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو شکست دینے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوگئے، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔ اسی نفرت کا ایک ظاہر وہ ہے، جس کو خودکش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔ خودکش بمباری بلاشبہ ایک حرام فعل ہے، لیکن لوگوں نے اس کو استشہاد (طلب شہادت) کا نام دے کر جائز کر لیا۔ قرآن وسنت کے مطابق جو فعل جہنم میں لے جانے والا تھا، اس کو خودساختہ طور پر یہ حیثیت دے دی کہ وہ ان کو سیدھا جنت میں لے جانے والا ہے۔
موجودہ زمانے میں جو مسلم تشدد (Muslim militancy) پیدا ہوئی، وہ اسی سیاسی تعبیر دین
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues