Al-Risala · October 2020 · page 18

پیرویٔ اسلام، تنفیذِ اسلام

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۸

کا براہ راست نتیجہ ہے۔ موجودہ مسلم تشدد کو جوابی تشدد سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کو ختم کرنے کے لیے جوابی آئیڈیالوجی درکار ہے۔ جوابی تشدد ان کو صرف ہلاک کر سکتا ہے، مگر اپنے مفروضہ عقیدے کے مطابق وہ یہ سمجھتے رہیں گے کہ وہ شہید ہو کر جنت میں جارہے ہیں۔ اس مفروضہ حقیقت کی بنا پر تشدد کے ذریعے اس کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے خاتمے کی صورت صرف یہ ہے کہ ایک طاقت ور دلیل کے ذریعے بتایا جائے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر ایک باطل تعبیر ہے۔ اسلام کی اصل تعلیمات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ مسلم تشدد کو ختم کرنے کے لیے ایک نظریاتی مہم درکار ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز اس کا خاتمہ کرنے والی نہیں۔

حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دور آخر میں امت کے اندر ایک بے حد خطرناک فتنہ پیدا ہوگا، یہ دجالیت کا فتنہ ہوگا (مسند احمد، حدیث نمبر 16265)۔ دجالیت سے مراد غالباً یہی پر فریب سیاسی تعبیر دین کا نظریہ ہے۔ یعنی اس نظریے کو ایسے خوشنما الفاظ میں پیش کیا جائے گا کہ لوگ اس کو باطل سمجھنے سے عاجز رہیں گے۔ اسلام کو مکمل نظام کا خوبصورت نام دے کر لوگوں کو دھوکے میں ڈالا جائے ۔ لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ اسلام ذاتی پیروی کا دین نہیں ہے، بلکہ وہ بزور نافذ کرنے کا دین ہے۔ اس کو زمین پر مکمل معنوں میں نافذ کیا جائے۔ اس طرح اسلام معرفت کا دین نہ رہا، بلکہ وہ جنگ اور تشدد کا دین بن گیا۔ یہی دجالیت ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلم تشدد کا اصل سبب یہی دجالیت ہے۔ اس تشدد کو صرف اس وقت ختم کیا جا سکتا ہے، جب کہ لوگوں کو دلیل کے ذریعے یہ بتایا جائے کہ مکمل نظام کا نظریہ ایک پر فریب نظریہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

اس نظریے کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہوا کہ امت سے دعوت کا مزاج ختم ہو گیا۔ اصل دینی تصور کے مطابق امت مسلمہ داعی ہے اور دوسری قومیں مدعو۔ اب داعی اور مدعو کے بجائے حریف اور دشمن کی نسبت قائم ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ امت کا اصل مشن دعوت الی اللہ عملاً حذف ہو گیا۔ کیوں کہ دعوت کے لیے نصح ( خیر خواہی کا ذہن درکار ہے۔ دشمنی اور دعوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page