Al-Risala · November 2020 · page 10

خدا کا عقیدہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۰

خدا کا عقیدہ

کائنات کا ایک خدا ہے، جو اس کا خالق اور مالک ہے۔ اس خدا کے وجود کی سب سے بڑی دلیل خود وہ کائنات ہے، جو ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ ایک عظیم خدا ہے، جس نے اس کو بنایا، اور اپنی بے پناہ طاقت سے اس کو چلا رہا ہے۔ ہم مجبور ہیں کہ ہم کائنات کو مانیں، اور اسی لیے ہم مجبور ہیں کہ ہم خدا کو مانیں۔ کیوں کہ کائنات کو ماننا اس وقت تک بے معنی ہے، جب تک اس کے خالق و مالک کو نہ مانا جائے۔ کائنات اتنی حیرت انگیز ہے کہ وہ کسی بنانے والے کے بغیر بن نہیں سکتی، اور اس کا نظام اتنا عجیب ہے کہ وہ کسی چلانے والے کے بغیر چل نہیں سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننے پر آدمی اس طرح مجبور ہے، جس طرح اپنے آپ کو یا کائنات کو ماننے پر۔

آپ سائیکل کے پہیے پر ایک کنکری رکھیں، اور اس کے بعد پیڈل چلا کر پہیے کو تیزی سے گھمائیں تو کنکری دور جا کر گرے گی۔ حالاں کہ سائیکل کے پہیے کی رفتار مشکل سے 25 میل فی گھنٹہ ہے۔ ہماری یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں، وہ بھی ایک بہت بڑے پہیے کی مانند ہے۔ زمین اپنے محور پر مسلسل ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ یہ رفتار سواری کے عام ہوائی جہازوں سے زیادہ ہے۔ ہم اس تیز رفتار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ گھر اور شہر بناتے ہیں۔ مگر ہمارا وہ حال نہیں ہوتا، جو گھومتے ہوئے پہیے پر رکھی ہوئی کنکری کا ہوتا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ معجزہ۔ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ زمین پر ہمارے قائم رہنے کی وجہ یہ ہے کہ نیچے سے زمین بہت بڑی طاقت کے ساتھ کھینچ رہی ہے، جس کو قوت کشش کہا جاتا ہے، اور اوپر سے ہوا کا بھاری دبائو ہم کو زمین کی سطح پر روکے رہتا ہے۔ یہ دو طرفہ عمل ہم کو زمین پر تھامے ہوئے ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہم پہیے کی کنکری کی طرح فضا میں اڑ نہیں جاتے۔ مگر یہ جواب صرف یہ بتاتا ہے کہ ہمارے آس پاس ایک اور اس سے بھی زیادہ بڑا معجزہ موجود ہے۔ زمین میں اتنے بڑے پیمانے پر کھینچنے کی قوت ہونا،

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page