Al-Risala · November 2020 · page 11

خدا کا عقیدہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۱

اور اس کے چاروں طرف ہوا کا پانچ سو میل موٹا غلاف مسلسل لپٹا رہنا صرف معاملے کی حیرت ناکی کو بڑھاتا ہے، وہ کسی بھی درجے میں اس کو کم نہیں کرتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز معجزہ ہے۔ آدمی مٹی کے اندر ایک چھوٹا سا دانہ ڈالتا ہے۔ اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ دیکھتا ہے کہ مٹی کے اندر سے ایک ہری اور سفید مولی نکلی چلی آ رہی ہے۔ وہ دوسرا دانہ ڈالتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے میٹھا گاجر نکلا چلا آ رہا ہے۔ اسی طرح بے شمار دوسری چیزیں ۔ کسی دانے کو مٹی میں ڈالنے سے امرود نکل رہا ہے۔ کسی دانے کو ڈالنے سے آم ۔ کسی دانے سے شیشم کا درخت نکلا چلا آرہا ہے، اور کسی دانے سے چنار کا درخت ۔ پھر ان میں سے ہر ایک کی صورت الگ ، ہر ایک کا مزہ الگ ، ہر ایک کے فائدے الگ ، ہر ایک کی خاصیتیں الگ ۔ ایک ہی مٹی ہے، اور ناقابلِ لحاظ چھوٹے چھوٹے بیج ہیں، اور ان سے اتنی مختلف چیزیں اتنی مختلف صفتوں کو لیے ہوئے نکل رہی ہے، جن کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔

حیرت ناک معجزوں کی ایک پوری کائنات ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں سارے انسان مل کر ایک ذرے کی بھی تخلیق نہیں کر سکتے وہاں ہر لمحہ بے شمار طرح طرح کی چیزیں پیدا ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اتنے بڑے معجزے ہیں کہ ان کے کمالات کو انسانی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو بتانے کے لیے ہماری لغت کے تمام الفاظ بھی ناکافی ہیں۔ ہمارے الفاظ ان معجزوں کے اتھاہ کمالات کو صرف محدود کرتے ہیں۔ وہ کچھ بھی ان کا اظہار نہیں کرتے ۔ کیا یہ معجزہ ایک خدا کے بغیر خود بخود وجود میں آ سکتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز ایٹم سے بنی ہے۔ ہر چیز اپنے آخری تجزیے میں ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ مگر کیسا عجیب معجزہ ہے کہ کہیں ایٹموں کی ایک مقدار جمع ہوتی ہے تو سورج جیسا روشن کرہ بن جاتا ہے۔ دوسری جگہ یہی ایٹم جمع ہوتے ہیں تو وہ بہتے ہوئے پانی کی صورت میں رواں ہو جاتے ہیں۔ تیسری جگہ ایٹموں کا یہی مجموعہ لطیف ہواؤں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کسی اور جگہ یہی ایٹم زرخیز زمین کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں ان گنت چیزیں ہیں۔ سب کی ترکیب ایٹم سے ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page